غزہ میں انسانی بحران سنگین،شدید سرد موسم نے امدادی سرگرمیوں کی کامیابیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ۔13جنوری :اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران اب بھی انتہائی سنگین ہے اور شدید سرد موسم نے امدادی سرگرمیوں میں حالیہ کامیابیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ترجمان سٹیفن دوجارک نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹز میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں جاری طوفانی بارش نازک پناہ گاہوں کو نقصان پہنچا رہی ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بے گھر افراد شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گاہ کی وسیع ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ ہفتے ہمارے شراکت داروں نے 28 ہزار خاندانوں تک امدادی سامان پہنچایا جس میں 1,600 خیمے، 16,000 ٹارپولین اور 27,000 کمبل شامل ہیں، ان کوششوں کے باوجود کم از کم 1.1 ملین افراد کو اب بھی فوری امداد کی ضرورت ہےکیونکہ موسم کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ فوری طور پر زیادہ پائیدار حل درکار ہیں جن میں ٹول کٹس، سیمنٹ اور بھاری مشینری شامل ہے تاکہ ملبہ ہٹایا جا سکے اور مسلسل مالی معاونت بھی ضروری ہے تاکہ ہنگامی امداد سے ابتدائی بحالی کی طرف منتقلی ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچّے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ایک اور بچہ شدید سردی کے باعث شہید ہو گیا جس کے ساتھ حالیہ اموات کی تعداد چار ہو گئی ہے اور تمام مرنے والے بچے بہت کم عمر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے جنگ بندی کے بعد اور سال کے آخر تک بچوں کے لئے 310,000 سے زیادہ سردیوں کے کپڑے اور 112,000 جوڑ ے جوتوں کے تقسیم کیے ، اس کے علاوہ غزہ میں 150 خصوصی خیمے بھی نصب کیے گئے ہیں ۔
غذائیت کے شراکت داروں نے گزشتہ ماہ 76,000 سے زائد بچوں کی سکریننگ کی جس میں تقریباً 4,900 شدید غذائی قلت کے کیسز کی نشاندہی ہوئی ان میں سے 820 سے زیادہ شدید نوعیت کے تھے، اس طرح 2025 میں غذائی قلت کے کل کیسز کی تعداد تقریباً 95,000 تک پہنچ گئی ۔ تعلیم کے شراکت دار وں کی جانب سے گزشتہ ہفتے 18 اضافی عارضی تعلیمی مراکز کھولے گئے جو تقریباً 35,000 طلبہ کی تعلیم کے لئے استعمال ہو رہے ہیں، اب غزہ میں کل 440 فعال عارضی تعلیمی مراکز ہیں جو تقریباً 268,000 بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے تعلیمی مواد کے داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو دلیل دیتے ہیں کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں تعلیم اہم سرگرمی نہیں ۔اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم ایک انتہائی اہم سرگرمی ہے۔