انس حقانی کون ہیں ۔۔۔۔تفصیلات سامنے آگئیں

رپورٹ۔۔۔عبدالکریم

افغانستان کی حکومت نے انس حقانی سمیت تین طالبان رہنما رہا کردئیے جن کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے

افغان حکومت نے انس حقانی،حاجی مالی خان اور عبدالرشید کو مشروط طور پر رہا کردئیے

افغان صدر اشرف غنی انہیں افغان طالبان کے حراست میں قید کابل میں واقع ا مریکن جامعہ کے اساتذہ کی رہائی اور افغان امن مذاکرات میں پیش رفت کے بدلے میں رہا کیا

یاد رہے آٹھ اگست دوہزار چودہ کو کابل سے دو غیرملکی اساتذہ کو اغواکئے گئے تھے جن میں ایک امریکی اور ایک آسٹریلیا کا باشندہ ہے،

صدر اشرف غنی نے صدارتی محل ارگ میں اس بارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان قیدیوں کو رہا کرنا ایک مشکل فیصلہ ہے

لیکن انہوں نے یہ فیصلہ امریکی اور دیگر عالمی اتحادیوں کے صلہ و مشورے سے کیا ہے

اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ دو ہزار چودہ کو اغواہ ہونے والے اساتذہ کے بارے میں ان کی تلاش کی کوششیں ناکام رہی ہے

لیکن طالبان کے ساتھ غیررسمی بات چیت میں ان اغواشدہ اساتذہ کی حوالگی ان کی مطالبات میں شامل رہا ہے۔

دوسری طرف امریکی احکام کو یقین ہے کہ ان اساتذہ کو حقانی نیٹ ورک نے اغوا کیا ہے کیونکہ وہ کابل میں ہونے والے حملوں کیلئے طالبان کوذمہ دار ٹھہراتے ہیں

اس بارے میں پاکستان میں سابق طالبان دور کے افغان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف  نے امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انس حقانی کیلئے طیارہ پہنچ چکا ہے

لیکن تاحال وہ رہا نہیں ہوئے ہیں ان کے بقول چونکہ انس حقانی طالبان کے سیاسی کمیشن کا ممبر ہے اس لیے وہ سب سے پہلے قطر جائیں گئے

ملا عبدالسلام ضعیف  کے مطابق اغوا شدہ اساتذہ کی رہائی کیلئے طالبان اور امریکی نمائندے زلمی خلیل زاد کے درمیان ایک سال سے بات چیت جاری ہے

عبدالسلام ضعیف  کا مزید کہنا تھا کہ جب طالبان قیدی اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے تو طالبان کے زیرحراست امریکی اور آسٹریلیا کے باشندوں کو اندرونی افغانستان میں حکام کے حوالے کردیا جائیگا

انس حقانی کون ہے۔

انس حقانی جلال الدین حقانی کا بیٹا ہے جو کہ حقانی نیٹ ورک کا خالق اور موجودہ سربراہ سراج حقانی کا سوتیلا بھائی اور حقانی نیٹ ورک کا دوسرا بڑا رہنما ہے،

انس حقانی کمپیوٹر کا ماہر ہے، انس حقانی دو ہزار چودہ میں بحرین میں گرفتار ہوئے تھے اور پھر انہیں افغان حکومت کے حوالے کیا گیا تھا

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں