مچھ بنیادوں ضروریات سے محروم

مچھ تعلیمی حوالے سے انتہائی پسماندہ ہے علاقے میں کوئی سرکاری ماڈل اسکول نہیں مچھ شہر سے

0

 عمران سمالانی
نیشنل پارٹی مچھ کے زیر اہتمام مچھ میں تعلیم صحت و بنیادی مسائل کے حل کیلئے احتجاجی ریلی و جلسے کا اہتمام ریلی و جلسے میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے شخصیات سیاسی جماعتوں انجمن تاجران ٹریڈ یونیز کے نمائندے و طلباء وشہریوں کی کثیر تعداد میں شرکت ریلی مچھ کے صدر ملک زاہد اقبال سمالانی کی قیادت میں برآمد ہوئی جلسے کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا

جسکی عظیم سعادت مچھ کے مقامی عالم دین مفتی نصراللہ گلستانی نے حاصل کی میر عبدالواحد کرد انٹر کالج مچھ کو ڈگری کا درجہ دیا جائے تعمیر شدہ ہسپتال کو فعال اورمہنگائی بے روزگاری وغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی سیفٹی کویقینی بنائی جائے

ان خیالات کا اظہار و مچھ کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر خدائے رحیم بلوچ نے نیشنل مچھ کے صدر ملک زاہد اقبال سمالانی معروف عالم دین مولانا محمد انور سمالانی آل پاکستان پیرا میڈیکل فیڈریشن کچھی کےسینئر نائب صدر حافظ غلام اللہ شاہوانی پریس کلب مچھ کے جنرل سیکرٹری عمران سمالانی ایم سی مچھ کے لیبر یونین کے رہنماء مجیب احمد نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا مقررین نے کہاکہ مچھ تحصیل بلوچستان کا وہ واحد شہر ہے جس سے حکومت کوئلہ ٹیکس کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے وصول کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے مچھ شہر گوں نا گوں مسائل سے دوچار ہیں اور زندگی کی تمام تر بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں

مچھ تعلیمی حوالے سے انتہائی پسماندہ ہے علاقے میں کوئی سرکاری ماڈل اسکول نہیں مچھ شہر سے متصل دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں کی حالت ناقابل بیان ہیں وہاں اساتذہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے قاصر ہیں گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینے کو اپنا حق سمجھتے ہیں دیہی علاقوں کے اسکولوں کی عمارتیں بوسیدہ اور ان میں پانی بجلی حالانکہ بچوں کے بیٹھنے کیلئے کرسیوں تک نہیں اسوقت مچھ تحصیل کی آبادی 40ہزار سے زاید نفوس پر مشتمل ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ کثیر آبادی کیلئے کوئی ڈگری کالج نہیں ہمارے بچے اور بچیاں ایف ایس سی کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہیں میر عبدالواحد کردانٹرکالج مچھ کو ڈگری کا درجہ دلانے کیلئے مچھ کے سیاسی قائدین نے سابقہ ڈائریکٹر کالجز سے مسلسل ملاقاتیں کیں اور اس اہم بنیادی مسائل کو میڈیا میں بھی اجاگر کیا جس کے بعد سابقہ ڈائریکٹر کالجز نے مچھ کالج کو ڈگری کا درجہ دینے کا اعلان کیا لیکن بدقسمتی سے اس اعلان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو ا اور یہ اعلان تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ڈگری کالج نہ ہونے کی وجہ سے ایف ایس سی کے بعد طلباء وطالبات مجبورا اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے جاری نہیں رکھ سکتے

کیونکہ دیگر علاقوں میں مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے انہیں رہائش ودیگر اخراجات کو پورے کرنے کیلئے مالی مشکلات ودقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے طلباء وطالبات تعلیمی سلسلے جاری رکھنے پر خیرآباد کرنے کوہی ترجیح دیتے ہیں ویسے بھی مچھ شہر ایک لیبر سٹی ہے دن بھر کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے ایک مزدور ومحنت کش کی کمائی اتنا ہی ہوتا ہے جس سے وہ اپنے دووقت کی روٹی بمشکل سے پورا کرتا ہے سالانہ کوئلہ ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے ٹیکس دینے والا مچھ شہر میں کوئی معیاری اور اعلی تعلیمی ادارہ نہیں جو انتہائی افسوسناک آمر ہے مچھ میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابرہے مچھ ہسپتال میں سہولتوں کا فقدان ہے ڈاکٹرز ڈینٹل سرجن ایکسرہ آپریٹرہے اور نہ ہی مریضوں کو ریفر کرنے کیلئے کوئی ایمبولینس موجود ہوتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ مچھ میں علاج و معالجے کیلئے کوئی ہسپتال نہیں کیونکہ عمارتوں کو ہسپتال کہنا ظلم و زیادتی کی مترادف ہے نیو ہسپتال مچھ کی بلڈنگ کو تعمیر ہوئی کئی سال ہوگئی لیکن اب تک اس کو فعال نہیں کیا جارہا ہے جو انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ مچھ کے شہری معمولی علاج کیلئے دیگر شہروں کا رخ کرتے ہیں

موجودہ حکومت عوام کو ریلیف اور سہولت دینے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہے ہیں حالیہ مہنگائی کی طوفان سے غریب عوام نان شبینہ کیلئے محتاج ہوکر رہ گئیں ہیں روز مرہ استعمال ہونے والے اشیاء خوردنوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہیں

موجودہ حکومت کو غریب عوام سے کوئی سروکارہے اور نہ ہی ان کو غریب عوام کی مشکلات کاادراک ہے موجودہ حکمران غربت نہیں غریب مٹاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور سرمایہ داروں کی ایماء پر دن بدن اشیاء خوردنوش کی قیمتیں بڑھاکر ان کا خوشنودی حاصل کررہی ہیں اور عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے مچھ میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے بجلی سے منسلک کاروباری …

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: