بلوچستان میں نیا سیاسی کلچر

باقی بلوچ

دنیا میں اس سے پہلے یا آج “مڈل کلاس” سے متعلق جتنے دعوے اور تاویلیں پیش کی گئی ہیں۔

تاریخ کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون کیاتھا۔اس کا تعلق کس قوم یا قبیلہ سے تھا۔۔
لیکن سوال یہ ہے کہ انکا منفی کردار اور منفی سوچ نے سماج کو کتنا متاثر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

لیکن۔۔۔۔۔ مڈل کلاس کا حادثات، انقلابات، معاشرے کو سدھارنے، سائنسی ایجادات سے متعلق دعوے، تبدیلی اپنی جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

“” لیکن مڈل کلاس سب سے منافق کلاس ہے “”

جوکہ اپنے پرسنل۔مفادات کیلئے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا۔۔۔۔۔

اس وقت بلوچستان میں تین School of thoughts
خیربخش مری، سردار عطاء اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو کی شکل میں موجود ہیں۔

اور تمام اپنے سوچ اور نظریے کے مطابق جذباتی،رومانوی طریقوں سے اپنے ورکرز کو قائل کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

لیکن موجودہ دور میں ایک نیا کلچر ڈویلپ ہورہا ہے۔

اس کلچر کی اچھائی، برائی کے بھی وہی لوگ ذمہ دار ہے جو اس سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔۔

ڈاکٹر ناشناس کا جھک جانا اور اسد بلوچ کا انکے کندھوں پہ تپکھی۔۔۔۔۔کہ ویلڈن بیٹا جیتے رہو۔۔۔۔
اس بات کا ثبوت ہے۔کہ وہ پہلے والا بلوچ قوم پرستی کاڈبیٹ، مکالمہ اور نڈر پولیٹیکل ورکرز اب معدوم ہوچکے ہیں۔

اس سے پہلے نہ کسی نے دیکھا اور نہ ہی سناکہ کسی بھی پارٹی کے ورکر نے بلوچستان میں اپنے لیڈر کے سامنے یوں جھکا ہے۔۔۔۔۔

اس سے پہلے آج سے زیادہ احترام، محبت اور حب الوطنی موجود تھا۔۔۔
لیکن کسی بھی پارٹی کے لیڈر نے کسی کو اپنے سامنے جکھنے کیلئے یوں نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

اس کا مطلب ہے کہ پہلے بلوچستان میں آج سے زیادہ پولیٹیکل میچورٹی موجودہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن اب پارٹیوں میں دْم چھلا، چاپلوسی، چمچہ گری کی سیاست اپنے عروج پر ہے۔
آج کوئی بھی عہدیدار کسی بھی عہدے پر موجود ہے۔ تو اپنی کرتوت، پروپیگنڈہ اور دونمبری کی وجہ سے موجود ہے۔۔۔۔۔۔؟

ڈاکٹرناشناس سے نہ ہی دشمنی پرخاش ہے اور نہ ہی پارٹی بغض۔۔۔۔۔۔۔۔؟
لیکن میرے ساتھ بلوچستان میں رہنے والے تمام طالب علم، سیاسی ورکر ڈاکٹرناشناس کے اس ”
غیر شائستہ” حرکت پر کافی برہم اور نالاں ہیں۔۔۔

کیونکہ بلوچستان میں اس سے پہلے بلوچ نیشنلزم میں اس قسم کے کلچر کو کبھی بھی ویلکم نہیں کیا گیا۔۔۔۔۔؟

لیکن اسد بلوچ اور انکے ورکر اس بات کے ذمہ دار ہیں۔ کہ وہ بلوچ مڈل کلاس کو ایک غلط ٹریک پر لے جارہے ہیں۔۔۔۔
اور اس بات کا خمیازہ خود انکو مستقبل میں بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔

اگر بلوچ مڈل کلاس کی نفسیات ہی ایسی ہے۔؟

تو ہم سرداروں اور نوابوں کو پھر کیوں برا بھلا کہتے ہیں۔۔۔۔۔؟

آج تک بلوچستان میں بی ایس او کے نوجوانوں نے جاگیرداری، سرمایہ داری، نوابی، سرداری کے خلاف جتنا جدوجہد کیا اورخون پسینہ بہایا تھا۔ ڈاکٹر ناشناس اور اسد بلوچ نے ان سب پر پانی پھیر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر چہ بلوچستان میں اس وقت راتوں رات پارٹیاں بن کر اور اقتدار پر براجمان ہیں۔
تو اس کا مطلب یے کہ اس میں بھی “مڈل کلاس کے منافقانہ رویے کا عمل دخل ہے۔

اگر بلوچستان میں صاف ستھری، نظریاتی سیاست ہوتی تو ایسے نالائق نااہل لوگ اقتدار میں نہ ہوتے۔۔۔۔۔۔۔؟

اس سے پہلے اور آج بلوچ نیشنلزم میں جتنے پارٹیاں اور طلباء تنظیمیں ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔۔۔۔ اس میں بنیادی وجہ بلوچ سائیکی، عہدوں کی سیاست اور اناء شامل ہے۔۔
آج بھی سیاسی قیادت کرسی اور عہدے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے۔۔

پہلے لیڈر کا دوسراگھر جیل ہوا کرتاتھا۔

اگرمڈل کلاس کے منافقانہ رویے نہ بدلے تو بلوچ نیشنلزم کا اللہ حافظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی عرش پر کبھی فرش پر
کبھی ان کے در کبھی دربدر
غم عاشقی تیرا شکریہ
ہم کہاں کہاں سے گزرگئے

نوٹ: ادارہ مضمون نگار کے رائے سے متفق نہیں،مضمون عوام کی آگاہی کیلئے شائع کیا جارہا ہے اختلاف رائے ہر ایک کا بنیادی حق ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں