بلوچستان میں خودکشی کا مسئلہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے

0

بلوچستان24اسٹاف رپورٹر

بلوچستان سائکالوجسٹ ایسوسی ایشن کے  زیر اہتمام ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے  کی مناسبت سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد نفسیات دان، حکومتی کارکن اور مختلف شعبہ جات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ سیمنار کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کے بعد ایسوسی ایشن کے صدر میر بہرام لہڑی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
بلوچستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگرام تواتر سے ہونے چاہئیں تاکہ عوام میں آگاہی پھیل سکے اور انہوں نے اپنے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ نغمہ ترین نے اپنی Presentation میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ بتایا کہ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی   اہم Physical Healthہے لیکن افسوس کہ ہمیں جسمانی صحت کی آگاہی تو ہے لیکن ذہنی صحت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی تاریخی اہمیت کے حوالے پرمغز نکات پیش کیے۔
سیمنار میں دیگر اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی جن میں PASSسائکالوجیکل ایڈ اینڈ سروسز فار سوسائٹی کے سربراہ طارق عزیز نے انسانی زندگی کو بہتر کرنے کی تجاویز پیش کیاور کہا کہ کامیاب زندگی صرف ایک ہی صورت میں گزاری جاسکتی ہے اگر ذہنی صحت ٹھیک ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بی پی اے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے اور اس آگاہی مہم میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ برمش بلوچ ۔۔۔۔ ادارے کے صدر نے نفسیات دان کی اہمیت کے حوالے سے بات کی اور تمام معزز مہمانوں اور حکومتی کارکنان سے درخواست کی کہ خدارا نفسیات کی اہمیت کو سمجھیں اور بڑے پیمانے پر آگاہی مہمات کا آغاز کریں تاکہ لوگ نفسیات دان کے پاس جانے سے ڈر کی بجائے فخر محسوس کریں۔ کیوں کہ ذہنی صحت کی اہمیت جسمانی صحت جتنی ہی اہم ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بے حد مشکل ہے
محسن بشیر نے Role of Psychology in promoting peace and harmony  کے عنوان سے اپنی پریزنٹیشن میں داخلی امن کے بارے میں سمجھایا اور اس کے پیچھے نفسیات کے عمل دخل کو بھی بیان کیا انہوں نے ان نکات کی نشان دہی کی جو داخلی امن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مزید اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت سارے مسائل صرف اس لیے حل نہیں ہوتے کہ لوگ سائکالوجسٹ کے پاس نہیں جاتے۔
سیمنار میں لاہور سے آئی مہمان، کلینکل سائکالوجسٹ آمنہ؟؟؟  نے کامیاب سیمنار پر سب کو مبارکبا دی اور چائلڈ سائکالوجی کے حوالے سے بات کا آغاز کیا اور لوگوں کو آگاہ کیا کہ بہت سارے مسائل جن کا بچپن کا چھوٹی عمر میں پتہ چل جاتا ہے لیکن والدین اسے نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ساری زندگی ان مسائل کے ساتھ ہی گزر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کیا جاتا اگر کیا جاتا تو یہ مسئلے بچپن ہی میں حل ہوجاتے اور ایک صحت مند مستقبل گزارا جاسکتا تھا۔
لاہور ہی سے ایک اور مہمان سادیہ مصطفی نے پریزینٹیشن پیش کی  اور کہا کہ پیدائشی سب ایک سے ہوتے ہیں لیکن بعد میں میسر ماحول سب کو مختلف بناتا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس قدر حساس ہیں کہ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کرتے۔
سماجی کارکن اور شاعرہ جہاں آرا تبسم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ مثبت فکر ہی ایک مثبت معاشرے کا سد باب ہوسکتی ہےانہوں نے  اپنے اشعار سے شایقین کو محظوظ کیا۔ ۔؟؟؟؟ شکیلہ؟؟ کا کہنا تھآ کہ بلوچستان میں خودکشی کا مسئلہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور جو بچے یتیم ہوجاتے ہیں ان کا کوئی سہارا نہ ہونا ان کو خودکشی پہ مجبور کر دیتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی مناسبت سے بی پی اے کی کاوشوں کو سراہا۔
بی پی اے کے ممبر محمد رسول کا کہنا تھآ کہ لوگ سائکالوجسٹ سے دور بھاگتے ہیں صرف اس لیے کہ لوگ کیا کہیں گے اگر انہوں نے نفسیات دان سے رجوع کیا۔ انہوں نے میر بہرام لہڑی کی کاوشوں سراہا اور کہا کہ انہوں نے سب کو اکٹھا کیا ہےانہوں نے آگاہی مہم کو مزید بڑھانے کی درخواست کی۔  آخر میں لیکچرار سائکالوجی رزاق نے سب کا شکریہ ادا کیا  BPA کے زیر اہتمام ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے World Mental Health Day  کی مناسبت سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد نفسیات دان، حکومتی کارکن، پارلمنٹرینز، سماجی کارکن اور مختلف شعبہ جات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ سیمنار کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کے بعد ایسوسی ایشن کے صدر میر بہرام لہڑی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے نفسیات کی اہمیت سے اس جدید دور میں ہمیں فائدہ اٹھانا ہوگا، بلوچستان میں اب اس شعبے کو مذید نظرانداز نہی کیا جائے گا۔
بلوچستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر غلام فاروق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگرام تواتر سے ہونے چاہئیں تاکہ عوام میں آگاہی پھیل سکے اور انہوں نے اپنے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ پروگرام کے اغراز و مقاصد لالا منیر بلوچ نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اج بلوچستان کے ماہرنفسیات متحد ہوکر ثابت کردیا کہ اس قسم کے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہے، ہمیں اب اپنے معاشرے کو نفسیاتی مسائل سے چھٹکارہ دلانا ہوگا، نغمہ ترین نے اپنی Presentation میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ بتایا کہ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی   اہم Physical Healthہے لیکن افسوس کہ ہمیں جسمانی صحت کی آگاہی تو ہے لیکن ذہنی صحت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی تاریخی اہمیت کے حوالے پرمغز نکات پیش کیے۔
سیمنار میں دیگر اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی جن میں PASSسائکالوجیکل ایڈ اینڈ سروسز فار سوسائٹی کے سربراہ طارق عزیز نے انسانی زندگی کو بہتر کرنے کی تجاویز پیش کیااور کہا کہ کامیاب زندگی صرف ایک ہی صورت میں گزاری جاسکتی ہے اگر ذہنی صحت ٹھیک ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بی پی اے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے اور اس آگاہی مہم میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ برمش بلوچ ائی پی سی ار سی ادارے کے صدر نے نفسیات دان کی اہمیت کے حوالے سے بات کی اور تمام معزز مہمانوں اور حکومتی کارکنان سے درخواست کی کہ خدارا نفسیات کی اہمیت کو سمجھیں اور بڑے پیمانے پر آگاہی مہمات کا آغاز کریں تاکہ لوگ نفسیات دان کے پاس جانے سے ڈر کی بجائے فخر محسوس کریں۔ کیوں کہ ذہنی صحت کی اہمیت جسمانی صحت جتنی ہی اہم ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بے حد مشکل ہے
محسن بشیر نے Role of Psychology in promoting peace and harmony  کے عنوان سے اپنی پریزنٹیشن میں داخلی امن کے بارے میں سمجھایا اور اس کے پیچھے نفسیات کے عمل دخل کو بھی بیان کیا انہوں نے ان نکات کی نشان دہی کی جو داخلی امن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مزید اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت سارے مسائل صرف اس لیے حل نہیں ہوتے کہ لوگ سائکالوجسٹ کے پاس نہیں جاتے۔
سیمنار میں لاہور سے آئی مہمان، کلینکل سائکالوجسٹ آمنہ بشیر  نے کامیاب سیمنار پر سب کو مبارکبا دی اور چائلڈ سائکالوجی کے حوالے سے بات کا آغاز کیا اور لوگوں کو آگاہ کیا کہ بہت سارے مسائل جن کا بچپن کا چھوٹی عمر میں پتہ چل جاتا ہے لیکن والدین اسے نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ساری زندگی ان مسائل کے ساتھ ہی گزر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کیا جاتا اگر کیا جاتا تو یہ مسئلے بچپن ہی میں حل ہوجاتے اور ایک صحت مند مستقبل گزارا جاسکتا تھا۔
لاہور ہی سے ایک اور مہمان سادیہ مصطفی جو کہ ایک تجربہ کار کلنیکل سائیکالوجسٹ ہیں نے پریزینٹیشن پیش کی  اور کہا کہ پیدائشی سب ایک جسے ہوتے ہیں لیکن بعد میں میسر ماحول سب کو مختلف بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس قدر حساس ہیں کہ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کرتے۔ پروگرام سے عرفان احمداعوان سی ای او سوسائٹی ارگنائزیشن نے کہا کہ کسی بھی کامیاب شخص کے لیے تعلیم ایک اہم رول ادا کرتی ہے، اس میں بچے کے تربیت کے لیے پہلے پانچ سال اہم ہوتا ہے، اسے نظرانداز کرنا ایک ظلم ہوگا۔ پروگرام میں عزیز احمد جمالی سی ای او پی پی ایچ ائی نے نفسیاتی مسائل اور کوڈ 19 پہ بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وباء میں ماہر نفسیات کا رول اہم ہے، بظاہر کوڈ کا پہلہ فیض ختم ہوا چاہتا ہے، مگر صوبے میں ابھرتے ہوئے نئے کسوں کی تعداد ہمارے لیۓ خطرے کا گھنٹی بجا رہا ہے،
سماجی کارکن اور شاعرہ جہاں آرا تبسم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ مثبت فکر ہی ایک مثبت معاشرے کا سد باب ہوسکتی ہےانہوں نے  اپنے اشعار سے شایقین کو محظوظ کیا۔ شکیلہ نوید بلوچ نمائندہ بلوچستان اسمبلی کا کہنا تھآ کہ بلوچستان میں خودکشی کا مسئلہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور جو بچے یتیم ہوجاتے ہیں ان کا کوئی سہارا نہ ہونا ان کو خودکشی پہ مجبور کر دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان دماغی صحت کے حوالے سے ایک پالیسی پہ کام کر رہی ہے، وہ اب اس سیمنار کے بعد حکومتی نمائندوں سے اس زمن میں بات کریں گی،  انہوں نے اس دن کی مناسبت بلوچستان سائکالوجسٹ ایسوسی ایشن  BPA کے زیر اہتمام ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے World Mental Health Day  کی مناسبت سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد نفسیات دان، حکومتی کارکن اور مختلف شعبہ جات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ سیمنار کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کے بعد ایسوسی ایشن کے صدر میر بہرام لہڑی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
بلوچستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگرام تواتر سے ہونے چاہئیں تاکہ عوام میں آگاہی پھیل سکے اور انہوں نے اپنے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ نغمہ ترین نے اپنی Presentation میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ بتایا کہ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی   اہم Physical Healthہے لیکن افسوس کہ ہمیں جسمانی صحت کی آگاہی تو ہے لیکن ذہنی صحت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی تاریخی اہمیت کے حوالے پرمغز نکات پیش کیے۔
سیمنار میں دیگر اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی جن میں PASSسائکالوجیکل ایڈ اینڈ سروسز فار سوسائٹی کے سربراہ طارق عزیز نے انسانی زندگی کو بہتر کرنے کی تجاویز پیش کیاور کہا کہ کامیاب زندگی صرف ایک ہی صورت میں گزاری جاسکتی ہے اگر ذہنی صحت ٹھیک ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بی پی اے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے اور اس آگاہی مہم میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ برمش بلوچ ۔۔۔۔ ادارے کے صدر نے نفسیات دان کی اہمیت کے حوالے سے بات کی اور تمام معزز مہمانوں اور حکومتی کارکنان سے درخواست کی کہ خدارا نفسیات کی اہمیت کو سمجھیں اور بڑے پیمانے پر آگاہی مہمات کا آغاز کریں تاکہ لوگ نفسیات دان کے پاس جانے سے ڈر کی بجائے فخر محسوس کریں۔ کیوں کہ ذہنی صحت کی اہمیت جسمانی صحت جتنی ہی اہم ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بے حد مشکل ہے
محسن بشیر نے Role of Psychology in promoting peace and harmony  کے عنوان سے اپنی پریزنٹیشن میں داخلی امن کے بارے میں سمجھایا اور اس کے پیچھے نفسیات کے عمل دخل کو بھی بیان کیا انہوں نے ان نکات کی نشان دہی کی جو داخلی امن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مزید اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت سارے مسائل صرف اس لیے حل نہیں ہوتے کہ لوگ سائکالوجسٹ کے پاس نہیں جاتے۔
سیمنار میں لاہور سے آئی مہمان، کلینکل سائکالوجسٹ آمنہ؟؟؟  نے کامیاب سیمنار پر سب کو مبارکبا دی اور چائلڈ سائکالوجی کے حوالے سے بات کا آغاز کیا اور لوگوں کو آگاہ کیا کہ بہت سارے مسائل جن کا بچپن کا چھوٹی عمر میں پتہ چل جاتا ہے لیکن والدین اسے نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ساری زندگی ان مسائل کے ساتھ ہی گزر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کیا جاتا اگر کیا جاتا تو یہ مسئلے بچپن ہی میں حل ہوجاتے اور ایک صحت مند مستقبل گزارا جاسکتا تھا۔
لاہور ہی سے ایک اور مہمان سادیہ مصطفی نے پریزینٹیشن پیش کی  اور کہا کہ پیدائشی سب ایک سے ہوتے ہیں لیکن بعد میں میسر ماحول سب کو مختلف بناتا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس قدر حساس ہیں کہ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کرتے۔
سماجی کارکن اور شاعرہ جہاں آرا تبسم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ مثبت فکر ہی ایک مثبت معاشرے کا سد باب ہوسکتی ہےانہوں نے  اپنے اشعار سے شایقین کو محظوظ کیا۔ ۔؟؟؟؟ شکیلہ؟؟ کا کہنا تھآ کہ بلوچستان میں خودکشی کا مسئلہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور جو بچے یتیم ہوجاتے ہیں ان کا کوئی سہارا نہ ہونا ان کو خودکشی پہ مجبور کر دیتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی مناسبت سے بلوچستان سائکالوجسٹ ایسوسی ایشن  BPA کے زیر اہتمام ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے World Mental Health Day  کی مناسبت سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد نفسیات دان، حکومتی کارکن اور مختلف شعبہ جات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ سیمنار کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کے بعد ایسوسی ایشن کے صدر میر بہرام لہڑی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
بلوچستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگرام تواتر سے ہونے چاہئیں تاکہ عوام میں آگاہی پھیل سکے اور انہوں نے اپنے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ نغمہ ترین نے اپنی Presentation میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ بتایا کہ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی   اہم Physical Healthہے لیکن افسوس کہ ہمیں جسمانی صحت کی آگاہی تو ہے لیکن ذہنی صحت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی تاریخی اہمیت کے حوالے پرمغز نکات پیش کیے۔
سیمنار میں دیگر اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی جن میں PASSسائکالوجیکل ایڈ اینڈ سروسز فار سوسائٹی کے سربراہ طارق عزیز نے انسانی زندگی کو بہتر کرنے کی تجاویز پیش کیاور کہا کہ کامیاب زندگی صرف ایک ہی صورت میں گزاری جاسکتی ہے اگر ذہنی صحت ٹھیک ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بی پی اے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے اور اس آگاہی مہم میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ برمش بلوچ ۔۔۔۔ ادارے کے صدر نے نفسیات دان کی اہمیت کے حوالے سے بات کی اور تمام معزز مہمانوں اور حکومتی کارکنان سے درخواست کی کہ خدارا نفسیات کی اہمیت کو سمجھیں اور بڑے پیمانے پر آگاہی مہمات کا آغاز کریں تاکہ لوگ نفسیات دان کے پاس جانے سے ڈر کی بجائے فخر محسوس کریں۔ کیوں کہ ذہنی صحت کی اہمیت جسمانی صحت جتنی ہی اہم ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بے حد مشکل ہے
محسن بشیر نے Role of Psychology in promoting peace and harmony  کے عنوان سے اپنی پریزنٹیشن میں داخلی امن کے بارے میں سمجھایا اور اس کے پیچھے نفسیات کے عمل دخل کو بھی بیان کیا انہوں نے ان نکات کی نشان دہی کی جو داخلی امن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مزید اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت سارے مسائل صرف اس لیے حل نہیں ہوتے کہ لوگ سائکالوجسٹ کے پاس نہیں جاتے۔
سیمنار میں لاہور سے آئی مہمان، کلینکل سائکالوجسٹ آمنہ؟؟؟  نے کامیاب سیمنار پر سب کو مبارکبا دی اور چائلڈ سائکالوجی کے حوالے سے بات کا آغاز کیا اور لوگوں کو آگاہ کیا کہ بہت سارے مسائل جن کا بچپن کا چھوٹی عمر میں پتہ چل جاتا ہے لیکن والدین اسے نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ساری زندگی ان مسائل کے ساتھ ہی گزر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کیا جاتا اگر کیا جاتا تو یہ مسئلے بچپن ہی میں حل ہوجاتے اور ایک صحت مند مستقبل گزارا جاسکتا تھا۔
لاہور ہی سے ایک اور مہمان سادیہ مصطفی نے پریزینٹیشن پیش کی  اور کہا کہ پیدائشی سب ایک سے ہوتے ہیں لیکن بعد میں میسر ماحول سب کو مختلف بناتا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس قدر حساس ہیں کہ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کرتے۔
سماجی کارکن اور شاعرہ جہاں آرا تبسم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ مثبت فکر ہی ایک مثبت معاشرے کا سد باب ہوسکتی ہےانہوں نے  اپنے اشعار سے شایقین کو محظوظ کیا۔ ۔؟؟؟؟ شکیلہ؟؟ کا کہنا تھآ کہ بلوچستان میں خودکشی کا مسئلہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور جو بچے یتیم ہوجاتے ہیں ان کا کوئی سہارا نہ ہونا ان کو خودکشی پہ مجبور کر دیتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی مناسبت سے
بلوچستان سائکالوجسٹ ایسوسی ایشن  BPA کے زیر اہتمام ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے World Mental Health Day  کی مناسبت سے ایک روزہ سیمینار منعقد کیا گیا جس میں ایک بڑی تعداد نفسیات دان، حکومتی کارکن اور مختلف شعبہ جات کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ سیمنار کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کے بعد ایسوسی ایشن کے صدر میر بہرام لہڑی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ذہنی صحت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
بلوچستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگرام تواتر سے ہونے چاہئیں تاکہ عوام میں آگاہی پھیل سکے اور انہوں نے اپنے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ نغمہ ترین نے اپنی Presentation میں ذہنی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ بتایا کہ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی   اہم Physical Healthہے لیکن افسوس کہ ہمیں جسمانی صحت کی آگاہی تو ہے لیکن ذہنی صحت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی تاریخی اہمیت کے حوالے پرمغز نکات پیش کیے۔
سیمنار میں دیگر اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی جن میں PASSسائکالوجیکل ایڈ اینڈ سروسز فار سوسائٹی کے سربراہ طارق عزیز نے انسانی زندگی کو بہتر کرنے کی تجاویز پیش کیاور کہا کہ کامیاب زندگی صرف ایک ہی صورت میں گزاری جاسکتی ہے اگر ذہنی صحت ٹھیک ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بی پی اے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہیں گے اور اس آگاہی مہم میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ برمش بلوچ ۔۔۔۔ ادارے کے صدر نے نفسیات دان کی اہمیت کے حوالے سے بات کی اور تمام معزز مہمانوں اور حکومتی کارکنان سے درخواست کی کہ خدارا نفسیات کی اہمیت کو سمجھیں اور بڑے پیمانے پر آگاہی مہمات کا آغاز کریں تاکہ لوگ نفسیات دان کے پاس جانے سے ڈر کی بجائے فخر محسوس کریں۔ کیوں کہ ذہنی صحت کی اہمیت جسمانی صحت جتنی ہی اہم ہے جس کے بغیر زندگی گزارنا بے حد مشکل ہے
محسن بشیر نے Role of Psychology in promoting peace and harmony  کے عنوان سے اپنی پریزنٹیشن میں داخلی امن کے بارے میں سمجھایا اور اس کے پیچھے نفسیات کے عمل دخل کو بھی بیان کیا انہوں نے ان نکات کی نشان دہی کی جو داخلی امن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مزید اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت سارے مسائل صرف اس لیے حل نہیں ہوتے کہ لوگ سائکالوجسٹ کے پاس نہیں جاتے۔
سیمنار میں لاہور سے آئی مہمان، کلینکل سائکالوجسٹ آمنہ؟؟؟  نے کامیاب سیمنار پر سب کو مبارکبا دی اور چائلڈ سائکالوجی کے حوالے سے بات کا آغاز کیا اور لوگوں کو آگاہ کیا کہ بہت سارے مسائل جن کا بچپن کا چھوٹی عمر میں پتہ چل جاتا ہے لیکن والدین اسے نظر انداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ساری زندگی ان مسائل کے ساتھ ہی گزر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کیا جاتا اگر کیا جاتا تو یہ مسئلے بچپن ہی میں حل ہوجاتے اور ایک صحت مند مستقبل گزارا جاسکتا تھا۔
لاہور ہی سے ایک اور مہمان سادیہ مصطفی نے پریزینٹیشن پیش کی  اور کہا کہ پیدائشی سب ایک سے ہوتے ہیں لیکن بعد میں میسر ماحول سب کو مختلف بناتا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس قدر حساس ہیں کہ خودکشی کر لیتے ہیں لیکن سائکالوجسٹ سے رجوع نہیں کرتے۔
سماجی کارکن اور شاعرہ جہاں آرا تبسم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ مثبت فکر ہی ایک مثبت معاشرے کا سد باب ہوسکتی ہےانہوں نے  اپنے اشعار سے شایقین کو محظوظ کیا۔ ۔؟؟؟؟ شکیلہ؟؟ کا کہنا تھآ کہ بلوچستان میں خودکشی کا مسئلہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور جو بچے یتیم ہوجاتے ہیں ان کا کوئی سہارا نہ ہونا ان کو خودکشی پہ مجبور کر دیتا ہے۔ انہوں نے اس دن کی مناسبت سے بی پی اے کی کاوشوں کو سراہا۔
بی پی اے کے ممبر محمد رسول ماہر نفسیات اور Quetta Mind Care and Counseling Center کے سی ای او کا کہنا تھآ کہ لوگ سائکالوجسٹ سے دور بھاگتے ہیں صرف اس لیے کہ لوگ کیا کہیں گے اگر انہوں نے نفسیات دان سے رجوع کیا، انہوں نے حادثات میں شہید ورثاء کی کونسلنگ کی اہمیت پہ زور دیا، اور حکومت سے اور ان کے اداروں سے اپیل کی Health Facilities کے ساتھ ساتھ مینٹل ہیلتھ پر بھی توجہ دینی چاہیے اور مختلف شعبوں میں کونسلئنگ کی اہمیت اور افادیت پر اصلاحات کرنے چاہیے.۔ آخر میں لیکچرار سائکالوجی اور نائب صدر بلوچستان سائکالوجسٹ ایسوسی ایشن عبدالرزاق بلوچ نے سب کا شکریہ ادا کیا کرتے ہوۓ اس سال ورلڈ منٹل ہیلتھ ڈے کے تھیم جو کہ مروت (Kindness) کی اہمیت پہ روشنی ڈالی اور اس بات پہ سیمنار کا اختتام کیا کہ، نقسیاتی مسائل کے حل کے لئے ماہر نفسیات سے لازم رابطہ کیا جائے گا۔

 

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: