بلوچستان ،مدارس میں اصلات لانے کا فیصلہ

0

ویب ڈیسک
بلوچستان کے حالات اسی بات کا متقاضی ہیں

کہ مدارس ریفارمز لائے جائیں دینی علوم کیساتھ ساتھ عصری علوم کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے

تمام مکتبہ فکر کے علماء و مشائخ کو اعتماد میں لے کر ایک قابل قبول اصلاحاتی قانون لانا چاہتے ہیں

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

سیکریٹری ثانوی تعلیم محمد طیب لہڑی کا محکمہ تعلیم بلوچستان اور بی آر ایس پی کے تعاون سے بلوچستان مدرسہ ایجو کیشن ریگو لیٹری اتھارٹی ایکٹ 2018 ء کے عنوان سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ سے خطاب ،ڈائریکٹر سکولز سید انور شاہ ایڈیشنل سیکریٹری ترقیات جہانگیر خان کاکڑ ، ڈاکٹر عامر حسین ، فیض اللہ ، ملک سکندر ایڈووکیٹ حافظ حسین احمدشرودی ، مولانا انوار الحق حقانی ، عبدالمتین اخوندزادہ ،محمد ہاشم موسوی ، صاحبزادہ کمال الدین ، علی محمد ابو تراب، ڈاکٹر عطاء الرحمن ، قاری عبدالرشید سمیت کثیر تعداد میں صوبے کے علماء و مشائخ نے شرکت کی

اسلام دین فطرت ہے علوم دینہ کو 1400 سالوں سے قائم رکھنے کا سہرا دینی مدارس کو جاتا ہے دینی مدارس نے ملت کو یکجا کیئے رکھا ہے ملی وحدت ، اخوت ومساوات کے فروغ میں مدار س کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے، مجوزہ قانون کوقابل عمل اور آسان بنایاجائے تاکہ قانون دینی معاملات

کوئٹہ :سیکریٹری ثانوی تعلیم محمد طیب لہڑی محکمہ تعلیم بلوچستان اور بی آر ایس پی کے تعاون سے بلوچستان مدرسہ ایجو کیشن ریگو لیٹری اتھارٹی ایکٹ 2018 ء کے عنوان سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ کی صدارت کررہے ہیں

سے متصادم نہ ہو،مقررین

آئین و قانون سے متصادم کوئی بھی قانون نہیں لایاجائے گا ۔ مجوزہ ایکٹ کے حوالے سے قابل عمل آراء اور تجاویز کو کھلے دل سے قبول کیا جائیگا،مدارس کو آزادانہ اور جدید تقاضوں کے مطابق چلانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے علماء پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ علماء ومشائخ اس حوالے سے جلد مثبت تجاویز کے ساتھ محکمے کی معاونت کریں گے۔سیکریٹری ثانوی تعلیم محمد طیب لہڑی نے شرکاء کو یقین دہانی

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.