کوئٹہ کا ایک بازار جہاں شور سے کاروبار وابستہ ہے

ٹک ٹک گلی میں سردیوں کی موسم میں کاروبار زیادہ ہوتا ہے

0

کوئٹہ(عبدالکریم) کوئٹہ کی وسط میں واقع خوشی رام روڈ جو اب ٹک ٹک گلی کی نام سے مشور ہے اس گلی میں صبح کی کرنیں پڑتے ہی ٹک ٹک کی آوازیں شروع ہوجاتی ہے ۔ اس گلی میں مقیم دوکانداروں کے مطابق اب وہ ان آوازوں سے مانوس ہوچکے ہیں۔

محمدعلی ٹک ٹک گلی میں اپنی ہنر سے مختلف چیزیں بناتا ہے جن میں انگھیٹی،صندوق اور دیگر شامل ہے وہ کہی سالوں سے یہاں مقیم ہے ان کی مطابق ٹک ٹک گلی پہلے لوہاری محلے کے نام سے مشور تھا کیونکہ یہاں لوہاروں کے دکانیں تھیں لیکن اب لوہار یہاں نہیں رہے ۔
محمدعلی کے بقول: پہلے یہاں کافی رش لگا رہتا تھا ، ٹک ٹک کی آوازیں تھمنے کا نام نہیں لیتا تھا لیکن اب آوازیں اس طرح نہیں رہے وقت کی ساتھ آوازوں میں کمی آتی رہی اس وجہ سے بہت دکانداروں نے یہاں سے اپنا کام سمیٹا۔

محمدعلی کے مطابق: ٹک ٹک گلی میں سردیوں کی موسم میں کاروبار زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سردیوں میں بلوچستان کی دیگر علاقوں سے جہاں گیس نہیں لوگ انگھٹیاں خریدنے آتے ہیں۔
محمدرمضان ٹک ٹک گلی میں عرصہ دراز سے کام کرتا آرہا ہے وہ آری ِ، چھریاں اور دیگر چیزیں بناتا ہے ان کے مطابق مذکورہ سامان اس گلی میں 80سے بنایا جاتا ہے۔
محمدرمضان کے بقول: ٹک ٹک گلی اس لیے اس کو کہتے ہیں کیونکہ اس گلی میں شور زیادہ ہے اور یہ شور یہاں ایک لمحے کیلئے بھی نہیں تھمتا ان کے مطابق مہنگائی کی سبب اب لوگ پہلے کی نسبت کم آرہے ہیں۔

رمضان کہتے ہیں کہ جب وہ شور سے تنگ ہوکر سکون کی چند لمحے گزارنے کیلئے دوستوں کے ساتھ سیر پر چلے جاتے ہیں،
یاد رہے ٹک ٹک گلی کی دکانداروں کا کاروبار شور سے وابستہ ہے جتنا زیادہ اس گلی میں شور ہوگا یہاں کی دکانداروں کی چہروں پر خوشی دیکھنے کو ملتی ہے ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: