سردی سے بچنے کے اہم معلومات ۔۔۔۔!

0

ماہرین صحت کے مطابق خزاں اور سرما کا موسم بالخصوص پھیپھڑوں کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک 

اس لیے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری دوائیں اور احتیاطی تدابیر پر پہلے ہی عمل پیرا ہونا چاہیے۔

موسم سرما کے صحت پر رونما ہونے سوالے برے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر خالص شہد ملا کر گھونٹ گھونٹ پینا مفید ہے۔

لونگ، دار چینی، سیاہ مرچ اور سونٹھ(زنجبیل) کے سفوف کی ایک چٹکی گرم قہوے میں ملا کر شہد سے میٹھا کر کے پینا مفید ہے۔ اس سے جسم میں حرارت بڑھتی ہے اور قوت مدافعت میں اضافہ ہوتاہے۔

ان کے علاوہ بنفشہ اور برگِ تلسی کی چائے اور لہسن کی چٹنی بھی اس موسم میں مفید ہے۔

موسم سرما میں جلدی امراض ، کھانسی ،جوڑوں کا درد اور دیگر بلغمی امراض میں اضافہ ہو جاتا ہے –  موسم کے سرد ہونے کے جِلد پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔سردی میں اضافے سے جِلد میں خشکی بڑھنے لگتی ہے۔ ہیٹر اور آگ سے کمرے گرم تو ہوجاتے ہیں لیکن ان میں خشکی بھی بڑھ جاتی ہے۔ جس سے جِلد اور بھی خشک رہنے لگتی ہے۔

اس لیے ایسے کمروں میں کھلے برتن میں پانی بھر کر رکھ دینا چاہیے اس طرح ہوا میں خشکی کا تناسب کم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ جِلد کو خشکی سے بچانے کیلئے روغن بادام اور عرقِ گلاب کو خوب ملا کر (ایملشن بنا کر) چہرے اور ہاتھوں وغیرہ پر لگانا مفید رہتا ہے۔اس سے جِلد خشکی سے محفوظ رہتی ہے۔ اسی طرح بہت گرم پانی کے غسل سے بھی جِلد میں خشکی بڑھ جاتی ہے۔ اس کے لیے مناسب ہے کہ پانی میں تھوڑی سی گلیسرین ملا لی جائے یا غسل سے پہلے زیتون یا تلوں کا تیل جسم پر مل لیا جائے اس سے جِلد کی پرتیں نہیں اترتیں اور خشک خارش بھی نہیں ہوتی۔

اس موسم میں چہرے کی حفاظت کریں اس مقصد کے لیے گلیسرین اور لیموں کا رس عرق ِ گلاب میں ملا کر لگانا مفید ہے۔

 اس موسم کے بد اثرات سے بچنے کا اصل تقاضا یہی ہے کہ آپ خود کو مضبوط اور توانا رکھیں۔ اس موسم میں کھلے کمرے اور بالکل بند کمرے میں سونے سے بھی گریز کریں۔ بہتر یہی ہے کہ کمرے کے روشن دان اور کھڑکیاں کھلی ہوں۔سر اور چہرہ کے علاوہ جسم کے باقی حصوں کو موسم کی شدت کے مطابق اونی اور گرم خشک کپڑوں سے ڈھانپنا چاہیے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: