پولیس میرے بیٹے کے اغواء مقدمہ درج نہیں کررہی

0

ڈیرہ اللہ یارسے نمائندہ خصوصی فدا حسین دھر پالی کی رپورٹ

ڈیرہ اللہ یار پولیس میرے بیٹے کے اغواء مقدمہ درج نہیں کررہی ہے ، پولیس نے ملی بھگت کرکے ملزمان کو چھوڑ دیا ہے ، پولیس نے چھ روز کے بعد بیٹے کو سکھر سے بازیاب کرانے کا کہا تھا ۔

ان خیالا ت کا اظہار گھر سے مدرسہ جاتے ہوئے لاپتہ ہونے والا 12سالہ لڑکے بلال رضا کا ولد اللہ ڈنہ بھنگر نے یہاں پریس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,717

انہوں نے کہاکہ 6جنوری کومیرا بیٹابلا ل رضاء بھنگر گھر سے مدرسہ جاتے ہوئے راستہ میں لاپتہ ہو گیا ہے جس کی رپورٹ پولیس تھانہ ڈیرہ اللہ یار میں درج کرائی تھی کہ میرے بیٹے کو ایک شخص نے اغواء کیا ہے جس پر پولیس نے کاروائی کی اور چھ روز بعد پولیس نے میرے بیٹے کو سکھر سے بازیاب کرنے کا کہا تھا اور میرے بیٹے کو ہمارے حوالے کیاتو ہم نے ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے کا کہا تو ایس ایچ او ڈیرہ اللہ یار نے ملز مان کے خلاف کاروائی کرنے سے انکار کردیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے جس شخص پر اغواء کا شک کیا تھا ایسی ہی نے دیگر ملزمان سے مل کر میرے بیٹے کو اغواء کرے فروخت کرنا چاہتے تھے ۔انہوں نے کہاکہ میرے بیٹے کے اغواء میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی ہے ،پولیس نے ملی بھگت کرکے ملزمان کو چھوڑ دیا ہے ۔

انہوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ ،گورنر بلوچستان وزیر اعلی بلوچستان ،کمانڈر سدرن کمانڈ ، آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی نصیر آباد سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور اغواء میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا جائے ۔

مبینہ اغواء ہونے والے لڑکا بلال رضا بھنگر نے پریس کانفر نس کے دوران بتایا کہ میں گھر سے مدرسہ جارہا تھا کہ راستے ایک شخص مجھے اغواء کیا جو دوسے شہر لے گئے جہاں پر مجھے ایک کمرے میں بند رکھا گیا تھا صرف دن کو ایک مرتبہ چاول دیئے جاتے ہیں ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.