ولڈ بینک کا منصوبہ : بلوچستان کے زمیندار معاوضہ سے محروم کیوں ۔۔؟

کوئٹہ : رپورٹ (مرتضیٰ زیب زہری )

تصاویر : عدنان بھٹی

سول سوسائٹی کے نمائندوں، ذرعی آبپاشی ماہرین اور بلوچستان کے زمینداروں کے نمائندوں نے عالمی بینک اور محکمہ آبپاشی بلوچستان کے طرف سے عالمی بینک کے قرضے سے شروع ہونے والے بلوچستان انڈر گریڈیڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکت میں زمینداروں کو ان کی زمینوں کا معاوضہ نہ دینے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سماجی تنظیم پی ڈی آئی کے جانب سے آج مقامی ہوٹل میں عالمی بینک کے پراجیکٹ کے حوالے سے منعقد کی گئی مشاورتی ورکشاپ میں شرکاء نے اس امر پر اپنی حیرانی کا اظہار کیا کہ عالمی بینک اور محکمہ آبپاشی بلوچستان پاکستان کی آبادکاری پالیسی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اس موقع پر پی ڈی آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سکندر بروہی نے عالمی بینک کے مذکورہ پراجیکٹ میں مقامی زمینداروں سے ہونے والی زیادتیوں پر اپنی تحقیقی رپورٹ پیش کی۔

سکندر بروہی نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ پراجیکٹ عالمی بینک کے 243.63ملین ڈالرز کے قرضے سے 2016 سے شروع کیا گیا ہے لیکن اس پراجیکٹ کے تحت ابھی تک کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں کیا گیا ہے۔ پی ڈی آئی کے تحقیق کے مطابق عالمی بینک اور محکمہ آبپاشی بلوچستان کے افسران نے پراجیکٹ کے حوالے سے مقامی لوگوں سے کوئی مشاورت نہیں کی اور ان کے بنیادی ضروریات کو نظر انداز کیا ہے۔

سکندر بروہی نے کہا کہ پراجیکٹ کے تحت آبپاشی کے تعمیراتی کاموں خاص کر نئے چینلوں کی تعمیر کے نتیجے میں مقامی لوگوں کی ہزاروں ایکڑ زمین متاثر ہو گی۔ لیکن مقامی زمینداروں کو اس حوالے سے کوئی معاوضہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ سکندر بروہی نے کہا کہ افسروں نے ضائع ہونے والی زمین کا تخمینہ جان بوجھ کر کم لگایا ہے جیسے مقامی لوگوں کو معاوضوں سے محروم رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پراجیکٹ کی وجہ سے لسبیلہ، سبی اور لورالائی میں ہزاروں ایکڑ زمین اور گاؤں متاثر ہونگے جن کو پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت معاوضہ ملنا چاہیئے۔

اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے لسبیلہ سے آئی ہوئے زمینداروں کے نمائندگان عبدالمجید، قادر بخش، عبدالرحمٰان، اور مراد جان نے کہا کہ عالمی بینک کے افسران نے ہم سے کوئی مشورہ نہیں کیا ہمارے گاؤں پراجیکٹ کی وجہ سے متاثر ہونگے تو ہم غریب لوگ کہاں جائیں گے۔

سبی سے آئے ہوئے زمینداروں کے نمائندگان ملک احمد خجک، ملک کریم، عبدالغفار لونی اور مجیب خجک نے کہا کہ عالمی بینک اور محکمہ آبپاشی کے رپورٹوں میں جھوٹ لکھا گیا ہے کہ ہم نے پراجیکٹ کے لئے زمینیں مفت فراہم کرنے کا وعدہ کیاہے۔ ہم نے کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا ہے سب چھوٹے زمیندار ہیں ان کی زمین متاثر ہوئی تو وہ ہر صورت میں معاوضہ لیں گے۔

لورالائی سے آئے ہوئے زمینداروں سردار شفیق ترین، حاجی در محمد اور میر واعظ خان نے کہا کہ دو سال گزرنے کے باوجود عالمی بینک کے پراجیکٹ کا کوئی کام ان کے علاقے میں شروع نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے بیوروکریسی سارا قرضہ ختم کرے گی اور عام لوگوں کو یہ قرضہ واپس کرنا پڑے گا۔

اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے نمائندگان زاہد مینگل، فاطمہ بلوچ، کمال جان اور شہناز نے کہا کہ عالمی بینک ہمارے صوبے کو قرضے میں ڈبو کر ہمیں مذید غریب بنانا چاہتی ہے


اس موقع پر ورکشاپ کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عالمی بینک کے پراجیکٹ میں مقامی لوگوں کی ترجیحات کو اولیت دی جائے۔ تمام زمینداروں کو ان کی متاثر ہونے والی زمین کا معاوضہ دیا جائے اور پروجیکٹ پر فی الفور عمل شروع کیا جائے۔ اس موقع پر سول سوسائٹی اور زمینداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جو کہ بلوچستان سرکار اور عالمی بینک کے ساتھ مذکورہ پروجیکٹ کے منفی پہلوؤں پر بات کریگی اور اس حوالے سے میڈیا میں آواز اٹھائے گی۔
https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں