افغانستان میں امن ،انتخابات ،مذاکرات یا خانہ جنگی

رپورٹ ۔عبدالکریم

افغانستان میں رواں ماہ کے اٹھائیس ستمبر کو صدراتی انتخابات ہورہے ہیں، جس میں موجودہ افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللّٰہ عبداللّٰہ، حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار اور لطیف پدرام سمیت سولہ امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل ہیں

ایک اہم مضبوط امیدوار حنیف اتمرجس کو سابق افغان صدر حامد کرزئی کی بھی حمایت حاصل تھی اپنے ٹیم کے ساتھ اختلاف کے وجہ سے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوئے

افغانستان میں انتخابی عمل کے ساتھ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن کا عمل بھی جاری تھا جس کے سلسلے میں دوہا قطر میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے نو دور مکمل بھی ہوئے اس دوران یہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ طالبان اور امریکا ایک امن معاہدے پر پہنچ چکے ہیں اور امن معاہدہ کا ایک مسودہ بھی تیار ہوچکا ہے جس پر دسختط ہونا باقی ہے، لیکن یہ عمل اس وقت رک گیا جب امریکی صدر نے ہفتہ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جعمرات کو ٹویٹ کرکے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گرین ولیج پر ہونے والے خودکش حملے کو بنیاد بنا کر افغان طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات منقطع کرنے کا اعلان کردیا

یاد رہے اس حملے میں ایک امریکی اور ایک رومانیہ کے فوجی سمت دس عام افغان شہری لقمہِ اجل بنے تھے اور اس واقعے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی تھی،

اس واقعے سے پہلے جب امریکا اور طالبان کے درمیان امن کے عمل کیلئے قطر میں مذاکرات جاری تھے تو افغانستان تو یہ پختہ خیال کیا جارہا تھا کہ امریکا اور طالبان موجودہ حکومت کو ختم کرکے عبوری حکومت بنانے پر متفق ہوگئے ہے اور موجودہ حکومت کے خاتمے کے ساتھ افغانستان میں ہونے والے انتخابات بھی موخر کئے جائیں گے اور یہ عبوری حکومت چھ ماہ میں موجودہ اساسی قانون میں ترامیم کے بعد انتخابات کا انعقاد ممکن بنائے گی،

یہ تجاویز جب افغان عوام کے سامنے آئی تو افغان میڈیا میں اس پر بحث شروع ہوگئی تو افغان عوام کی رائے دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ایک طبقے کا اور کچھ افغان ماہرین کا خیال تھا کہ انتخابات اب ممکن نہیں ہیں، اور ان کے مطابق امن کو انتخابات پر اولیت دینا چاہیے کیونکہ شفاف منصفانہ انتخابات امن کی فضاء میں ہی ممکن ہیں، امن افغان عوام کی دیرینہ خواہش ہے وہ ہر قیمت پر امن کا قیام چاہتے ہیں چاہے وہ موجودہ نظام کے سودے پر کیوں نہ ہو ں

لیکن دوسری طرف حکومت اور حکومت کے حامی طبقہ بین الاافغانی مذاکرات کے حامی ہیں اور وہ عبوری حکومت کی مخالفت کررہے ہیں وہ عبوری حکومت کے عمل اور انتخابات میں تاخیر کو افغانستان کو ایک اور خانہ جنگی کی آگ میں جھونکنے کے مترادف قرار دیتے ہیں،

اور اس عمل کو مجاہدین کے دور سے تشبہ دیتے ہیں جب مجاہدین نے ڈاکٹر نجیب کو اقتدار سے الگ ہونے کا کہا جب وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو مجاہدین آپس میں اقتدار کیلئے لڑپڑے جس کی وجہ سے ملک طویل خانہ جنگی کا شکار ہوا اور اب بھی سابق مجاہد رہنما احمد شاہ معسود کے بیٹے احمد معسودنے طالبان کے خلاف لڑنے کیلئے تنظیم بنانے کا اعلان کیا ہے.

دوسری طرف صدر اشرف غنی بھی امریکا اورطالبان امن معاہدے کے خلاف ہیں وہ بروقت انتخابات کے حامی ہیں اور اس نے طالبان کو بھی انتخابات کا حصہ بننے اور طالبان کو ایک سیاسی پارٹی کے طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن طالبان اشرف غنی کے حکومت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں طالبان اسے امریکی کٹھ پتلی قراردیتے ہیں، لیکن دوسرے طرف افغان صدر نے اس وقت امریکا کا دورہ ملتوی کردیا تھا جب کہا جارہا تھا کہ افغان طالبان اور امریکا امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، افغان صدر کے دورے کے ملتوی ہونے کے ایک دن بعد امریکی صدر نے امن مذاکرات منطقع کردئیے جس کی وجہ سے افغان صدارتی انتخابات کے انعقاد کا امکان بڑھ گیا یاد رہے اس سے پہلے افغانستان میں صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل زیادہ تر امیدواروں نے انتخابی مہم اس وجہ سے شروع ہی نہیں کی تھی کہ ہوسکتا ہے انتخابات موخر ہوجائیں اب اس انتخابی عمل میں تیزی آنے کا امکان ہے. دوسری طرف سابق طالب رہنماسید اکبر آغآ کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات پھر سے شروع ہوں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں