کتب بینی ایک خواب کیوں؟

0

رپورٹ۔ عبدالکریم
کیمرہ مین۔ ناصر ساحل

ایک دہائی قبل جب انٹرنیٹ تک دسترس کم تھی تو اس وقت لوگوں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ کتب بینی تھا لیکن اب وقت بدل چکا ہے دنیا انگلیوں میں سمٹ چکی ہے اس دنیا کو گلوبل ویلج کہا جاتا ہے ، اس دور کو ڈیجیٹل دور کہتے ہیں لیکن اس جدت نے کتابوں سے اس کے قاری چھین لیے

اب نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتاب نہیں موبائل نظر آتے ہیں بہت کم نوجوان کتابوں کی صفحوں میں مور کے” پر” رکھتے ہیں کتابوں سے شغف اب نہیں رہا

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,730

قائداعظم لائبریری کوئٹہ کے لائبریرین فاروق احمد کتب بینی کے سنہری دور کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں”بارہ سال قبل لوگ کتابیں پڑھنے آتے تھے ایک ہجوم ہوا کرتا تھا لیکن سوشل میڈیا نے لائبریری سے قاری چھین لیں اب لوگ مجبوری سے آتے ہیں لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو سلیبس تک محدود ہیں کتاب کے مستقل قاری اب بہت کم آتے ہیں بس موسمی پرندوں کی طرح طالبعلم ٹیسٹ کی تیاری کیلئے کتب خانے کا رخ کرتے ہیں اور پھر وہ یہاں سے کوچ کرجاتے ہیں”

فاروق احمد کتاب کی اہمیت کے بارے میں کہتے ہیں”کتاب انسانی زندگی کا بنیادی جز ہے کتاب پڑھیں گے تو آگے بڑھیں گے ہمارے مذہب کا پہلا شرط کتاب ہے کتاب پڑھنے سے لفظ ہمشہ یاد رہتے ہیں”
نورین خان جو مستقل طور پر کتابیں پڑھنے لائبریری آتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ حکومت نے اتنی بڑی لائبریری بنائی اور کتابیں رکھی ہیں لیکن افسوس ان سے استفادہ کرنے والے کم ہیں
نورین نے مزید کہاکہہ ” کتابوں پر توجہ کم ہوا ہے کمپیوٹر کا دور ہے لوگ اس سے استفادہ کررہے ہیں میں لائبریری اس لیے آتی ہوں کہ یہاں کتابوں کا مطالعہ کرنے کیلئے پرسکون ماحول میسر ہے۔

نوجوان سروررحمن سہولیات کا رونا روتے ہوئے کہتے ہیں ” تعلیم کی سہولیات کی کمی ہے کوئٹہ کی سوا لائبریری کی سہولت کہیں اور موجود نہیں
اس لیے دوردارز کے نوجوان کتابیں پڑھنے سے محروم ہیں اور اکثر نوجوان سوشل میڈیا سے متاثر ہیں یہ بھی کتب بینی سے دوری کی ایک وجہ ہے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.