بلوچستان کی بیورو کریسی نے بعض وزراء کی فائلوں کو نظر انداز کرنا شروع کردیا

0

باوثوق ذرائع کے مطابق بلوچستان کی بیورو کریسی نے بعض وزراء کی فائلوں کو نظر انداز کرنا شروع کردیا جبکہ محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی نے فائلوں کی رفتار کم کرنے کیلئے اپنے تئیں ’’سپیڈ بریکر‘‘ لگادیئے جس کے باعث کئی اہم فائلیں التواء کا شکار ہوگئیں۔

کوئٹہ: ویب ڈیسک

ذرائع کے مطابق بعض وزراء نے وزیراعلیٰ سے یہ شکایت کی ہے کہ بیورو کریسی ان کے ساتھ اس طرح سے تعاون نہیں کررہی جس طرح ماضی میں کیا جاتا تھا خصوصاً محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی میں ان کی بعض فائلوں پر کام کی رفتار کو سست کردیا گیا ہے اور ان فائلوں کو یا تو پرانی فائلوں کی نیچے دبایا جارہا ہے یا پھر ان کے بلاوجہ مختلف اعتراضات لگا کر ’’فٹ بال‘‘ بنادیا گیا ہے تاکہ وقت گزارا جاسکے ۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,730

ذرائع کے مطابق ایسا ہی کیس جو انسانی ہمدردی سے متعلق ہے بیورو کریسی اس کیس میں بھی روڑے اٹکارہی ہے اور ایک مشیر کی سفارش کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھ رہی ذرائع کے مطابق بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد میں نادرا کے ایک سرکاری ملازم جسے کچھ عرصہ قبل قتل کردیا گیا تھا اور اسے اسلام آباد میں ایک سرکاری فلیٹ الاٹ تھا۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے متذکرہ مقتول کی بیوہ اور بچوں کو فلیٹ خالی کرنے کا نوٹس جاری ہوا جس پر ایک اہم وزارت کے مشیر کی جانب سے متذکرہ بیوہ اور اس کے بچوں کو رہائش کیلئے مزید ایک سال کی توسیع دینے کی سفارش کی گئی لیکن محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی نے اس سفارش کو ہوا میں اُڑادیا اور یہ فائل اب تک دبا کر رکھی ہوئی ہے۔

اسی طرح کئی ایسی اور فائلیں بھی محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی میں التواء کا شکار ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزراء نے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اور دیگر محکموں میں بیورو کریسی کے بدلتے ہوئے رویئے کی شکایات وزیراعلیٰ تک پہنچادی ہیں اور وزیراعلیٰ سے اس حوالے سے سخت نوٹس لینے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ جن اہم فائلوں کو بیورو کریسی نے التواء میں ڈال رکھا ہے اُن پر فی الفور کارروائی عمل میں لائی جاسکے جن میں سے بعض فائلیں ایسی ہی عوامی مسائل و شکایات کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.