اسرائیلی جاریت کیخلاف جنوبی افریقا کی فوری اقدامات کے نفاذ کی درخواست مسترد

0

انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) نے رفح میں اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں کو  فوری روکنے سے متعلق جنوبی افریقا کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

جمعے کے روز انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (آئی سی جے) کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رفح کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات نافذ کرنے کی جنوبی افریقا کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

درخواست میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ عدالت نے نوٹ کیا کہ غزہ کی پٹی اور خاص طور پر رفح میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت ایک انسانی تباہی کا خوفناک منظر نامہ پیش کر رہی ہے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

درخواست میں کہا گیا کہ رفح کی صورتحال کے پیش نظر یہاں عارضی اقدامات کا فوری اور موثر انداز میں نفاذ کیا جانا چاہیے جبکہ اسرائیل کو 24 جنوری 2024 میں جاری کردہ حکم نامے پر عمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنی طاقت کے اندر تمام اقدامات کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی کارروائیاں نہیں ہو رہیں۔

عدالت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ریاست اسرائیل نسل کشی کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرنے کی پابند ہے جس میں مذکورہ حکم کے ساتھ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔

آئی سی جے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی نئے حکم کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ موجودہ اقدامات رفح سمیت پوری غزہ کی پٹی میں لاگو ہیں۔

جنوبی افریقا کی جانب سے منگل کے روز کہا گیا تھا کہ اس نے آئی سی جے کے پاس ایک درخواست فوری منظوری کے لیے دائر کی ہے تاکہ اس پر غور کیا جائے کہ رفح کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیوں نے نسل کشی کا الزام لگانے والے مقدمے میں عدالت کی جانب سے گزشتہ ماہ دیے گئے عارضی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے جمعرات کو عدالت سے درخواست کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنوبی افریقا کی درخواست کو بلاجواز قرار دیا۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری اور زمینی آپریشن میں اب تک 29 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور  20 لاکھ کے قریب بے گھر ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی افریکا کی جانب سے دی گئی درخواست میں رفح میں پھنسے ہوئے لاکھوں شہریوں کا ذکر کیا گیا تھا اور ساتھ ہی کہا گیا تھا اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں نسل کشی کنونشن کی سنگین اور ناقابل تلافی خلاف ورزی میں مزید بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، نقصانات اور تباہیاں ہو ں گی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.