رشتہ داروں کو ملازمتیں دینا میرا اختیار ہے : چیئرمین بلوچستان بورڈ کی عجیب منطق

0

رپورٹ: عبدالکریم  

معاون: جمیل خان 

👇چیئرمین بلوچستان بورڈ سے کئے گئے مکمل انٹرویو کی ویڈیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں 

یوسف بلوچ سمجھتے ہیں کہ رواں سال جو امتحانات ہوئے ، جس میں امتحانی طریقہ کار تبدیل کردیا گیا تھا، یہ اس طرز پر پاکستان میں امتحانات پہلی بار لیں گئے ہے اور یہ سو سالوں میں پہلی مرتبہ ممکن ہوا۔

یوسف بلوچ کے بقول: بلوچستان بورڈ کے نظام میں جدت لایا جا رہا ہے اور اس کو سسٹمیٹک کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے نقل کی رحجان کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ بورڈ نقل کے خاتمے کیلئے جدوجہد کررہا ہے۔

👇چیئرمین بلوچستان بورڈ کے انٹرویو کی آڈیو انٹرویو سننے کے لیے یہاں کلک کریں

یوسف بلوچ کے مطابق:بورڈ ایک خودمختار ادارہ ہے،جو بچوں کے فیسوں سے چلتی ہیں۔ کورنا وائرس کے دوران میٹرک کے امتحانات نہیں ہوسکیں، جس کو ایک ایک نظام کے تحت پرموٹ کئے گئے۔اس دوران کام روکا ہوا تھا۔ لیکن زیادہ اقتصادی طور پر نقصان نہیں ہوا۔ ویسے ظاہر ہے مسائل ہے لیکن اس کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

بلوچستان بورڈ کے خستہ حال بلڈنگ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں یوسف بلوچ کہ کہنا تھا کہ ہمارے وسائل اتنے نہیں ہے کہ ہم نیا بلڈنگ بنائے، ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہم زلزلے کے ریڈ زون پر واقعے جس کی وجہ سے مجھ سے سمت تمام ملازمین ہمیشہ خطرے میں رہتے ہیں۔

ان کے بقول بورڈ کا ماہانہ اخراجات ڈہائی کروڑ روپے ہیں ، حکومت بلوچستان بورڈ کو گرانٹ کے مدد میں ایک روپے تک نہیں دیتا۔

یوسف بلوچ نے ان اور سیکرٹری پر پرلگائیں گئے اقربا پروری کے الزامات کو مسترد کئے اور کہا کہ ادارے اور ان کو بدنام کرنے کیلئے ان کے خلاف خبریں چلائی گئی۔لیکن اس بات کی یوسف بلوچ نے تصدیق کی کہ انہوں نے روازنہ کے اجرت پر اپنے رشتہ داروں کو بلوچستان بورڈ میں لگائے۔

 

اس بات کا وضاحت کرتے ہوئے یوسف بلوچ کا کہنا تھا کہ چیئرمین بورڈ کے اختیار میں ہے کہ وہ روزانہ اجرت پر لوگوں کو لگائے ۔

یاد رہے سرکاری اداروں میں عارضی یا مستقل بنیادوں پر تعیناتی کیلئے ایک باقاعدہ طریقہ کار وضح کیا ہے لیکن چیئرمین بورڈ سمجھتے ہے کہ یہ ان کا اختیار ہے کہ وہ کس کا رکھے اگر اس مد میں انہوں نے بھائی اور اپنے رشتہ داروں کو لگایا ہے تو اس میں برا کیا ہے وہ بھی اس ملک کے شہری ہے نہ کہ ہمسایہ ملک ہندوستان کے شہری ۔

یاد رہے سرکاری اداروں میں عارضی یا مستقل بنیادوں پر تعیناتی کیلئے ایک باقاعدہ طریقہ کار وضح کیا ہے

یوسف بلوچ کے مطابق: بلوچستان بورڈ میں افرادی قوت کی کمی ہے، کورنا وائرس کی وجہ سے بورڈ آفس بند رہا تو اس وجہ سے کام زیادہ تھا، ہم نے روزانہ کے اجرت پر لوگوں کو رکھا، ان سے کام لیا، کچھ کو فارغ کردیئے اب کچھ کام رہتا ہے وہ مکمل کرکے بعد میں ان کو بھی فارغ کردیں گئے اور اگر ہمیں آگئے بھی ضرورت پڑی تو بھی اجرت پر لوگوں کو رکھے گئے۔

یوسف بلوچ کے مطابق: بلوچستان میں بورڈ کے چار برانچز کام کررہے ہیں جن میں خضدار، تربت، لورالائی اور ڈیرمراد جمالی شامل ہے۔ان برانچز کو مکمل بورڈ ہونا چاہیے اور اس کیلئے حکومت کو سمری ارسال کی ہے، اب حکومت کا کام ہے کہ اس کو آگئے لے جائے۔

 

لورالائی ریذیڈنشنل کالج کے حوالے سے یوسف بلوچ کا کہنا تھا کہ مذکورہ کالج کی محنت ہے کہ ان کے بچے گزشتہ کہی سالوں سے مسلسل ٹاپ ٹین میں آتے ہیں۔ ہم نے اس دفعہ 120بچوں کے پرچوں کے سپر چیکنگ کروائے لیکن اس کا رزلٹ پھر بھی ہوئی آیا۔

لورالائی ریذیڈنشنل کالج ایک اقامتی دارہ ہے ان کے اساتذہ ان پر محنت کرتے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ تمام ادارے اس طرح کے محنت کروائے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: