”ن “لیگ پس پردہ رابطہ کررہی ہے، آصف علی زرداری

0

ویب ڈیسک

  سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دعوٰی کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ان کی جماعت سے پس پردہ رابطے کی کوشش کر رہی ہے۔

لاہور میں سینئر رہنماؤں اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقات کے دوران آصف علی زرداری نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) نے بیک ڈور سے رابطے بحال کرنے کی کوشش کی لیکن میں نے پیغام لانے والوں سے بات کرنے سے انکار کردیا۔‘

پیپلز پارٹی کے ترجمان چوہدری منظور نے آصف علی زرداری کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے نواز شریف سے فون پر بات کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی اور جو بھی بات ہوگی آمنے سامنے ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ’میثاق جمہوریت‘ پر دستخط کیے کہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو ’دھوکا‘ دے کر پرویز مشرف سے مک مکا کیا اور جلاوطنی اختیار کرلی۔

ان کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت کے بعد نواز شریف نے دوبارہ پیپلز پارٹی کو دھوکا دیا اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت میمو گیٹ کا حصہ بنی اور اسلام آباد میں دھرنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,747

انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی مزید ان کے جال میں نہیں پھنسے گی۔

چوہدری منظور نے بتایا کہ آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین، ترکی اور ایران کے ساتھ بارٹر سسٹم کا پروگرام پیپلز پارٹی کا تھا، لیکن نواز شریف حکومت نے مذکورہ پروگرام چلنے نہیں دیا۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اب مسلم لیگ (ن) پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو خالصتاً اپنا کارنامہ قرار دیتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آصف علی زاردی نے واضح کیا کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار معیشت سے متعلق کچھ نہیں جانتے اور ملک کو تباہی کے دھانے پر لارہے ہیں۔

چوہدری منظور نے کہنا تھا کہ نواز شریف کی جانب سے رابطے کی کوشش دراصل خود کو اور اپنے مال کو محفوظ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نااہل وزیر اعظم 1970 میں پیپلز پارٹی کے قومیانے کے پروگرام کو نہیں بھولے جس کے تحت نواز شریف کی اسٹیل مل بھی پروگرام کا حصہ بنی، لیکن اس مرتبہ نواز شریف نے پہلے سیاست کو پرائیوٹائز کیا اور اسے (سیاست) نجی اداروں کے ہاتھوں میں ڈال دیا تاکہ وہ ایسے قومیانے کا حصہ بنا سکیں۔

 

Thanks to Dawn Urdu


You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.