لیلیٰ اولیلیٰ، ابھی تو میں نے صرف شروعات کی ہے،عروج فاطمہ

 انٹرویو،سہیل بلوچ

شہرت کی بلندیوں پر قدم رکھنے والی بلوچستان کی کمسن گلوکارہ عروج فاطمہ نے بلوچستان 24کو خصوصی انٹرویو میں اپنے فن اور یہاں تک پہنچنے کی کہانی سنائی

عروج فاطمہ نے بتایا کہ بلوچستان میں ٹیلینٹ بہت زیادہ ہے لیکن کسی کو اتنا پرفارم کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا

لیکن میں بہت خوش قسمت ہوں کیونکہ میں ایسی فیملی سے تعلق رکھتی ہوں جنہوں نے اس شوق کے حصول میں میری کوئی روک ٹھوک نہیں کی

میں دعا کرتی ہوں ہر کسی کو ایسی فیملی ملے جیسی مجھے ملی کیونکہ صلاحیت ہر ایک میں ہوتی ہے

ہمیں چاہیے کہ ہم اس ٹیلینٹ کو سپورٹ کریں اور اس ٹیلینٹ کو سامنے لائیں۔میں نے بہت زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا کیا

عروج نے بتایا کہ مجھے چار سال ہو گئے گانا گاتے ہوئے اس چار سال کے دوران مجھے بہت سارے برے لوگ بھی ملے اور بہت سارے اچھے لوگ بھی ملے

عروج فاطمہ کے مطابق بلوچستان جیسے شہر میں ایک لڑکی کی گلوکاری کے شعبے کو چننا یہاں کی روایات میں اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے لیکن پھر بھی میں نے ہمت نہیں ہاری

چار سال میں مجھے بہت زیادہ مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ مجھے گھروالوں کی سپورٹ حاصل ہے

عروج فاطمہ کے بقول،موسیقی کے حوالے سے ان کو کوئی استاد نہیں ہے لیکن وہ اپنا استاد اپنے بھائی کو مانتی ہیں کیونکہ وہ مجھے حوصلہ بھی دیتے ہیں اور مجھے گلوکاری کی بھی تربیت دیتے ہیں

عروج کہتی ہیں کہ ٹپس میں ہر کسی سے لیتی ہوں لیکن میری بھائی نے مجھے لیرکس کی تربیت دی اور وہی میرے استاد ہیں

عروج نے بتایا کہ موسیقی ایک ایسا شعبہ ہے اگر آپ کو آپ کے گھر والے سپورٹ نہیں کریں تو آپ آگے نہیں جا سکتے اور میرے گھر والوں نے خاص کر میرے بھائی نے ہرموڑپر حوصلہ افزائی کی کیونکہ وہ مجھے ہر جگہ لے جاتے ہیں کوئی پروگرام ہو موسیقی کے حوالے سے اور فیملی میں میرے بھائی کی مجھے سب سے زیادہ سپورٹ حاصل رہی ہے

اور آج کل کا جو معاشرہ ہے خاص کر بلوچستان میں ان کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور بہت مشکل سے انہیں سکول بھیجتی ہیں وہ بھی میٹرک کر کے گھر میں بٹھا دیتی ہیں

عروج نے بتایا کہ یونیسیف کی ایک مہم تھی جس میں 300 بچوں نے درخواست جمع کرائی تھی ان میں سے 15 کو منتخب کیا گیا کوئٹہ سے میر ا انتخاب کیا گیا اور اور آج سے ڈیڑھ سال پہلے یونیسیف والے اسلا م آباد سے میری ڈاکومینٹری بنانے آئے تھے

ڈیڑھ سال بعد جب سب کی ڈاکومینٹریز مکمل ہوئیں تو انہوں نے ساری ڈاکومینٹریز پوسٹ کی اور پھر مجھے کراچی بلوایا اور پھر لاہور لے گئے جہاں پر یونیسیف کے ذریعے میری علی ظفر سے ملاقات ہوئی اوران کے ساتھ میرا بہت اچھا تجربہ رہا

ابھی میں اس فیلڈ میں انٹر ہو چکی ہوں تو آگے بھی اس کو ضرور جاری رکھو گی اب تو صرف میں نے شروعات کی ہے اب میں سیکھ رہی ہوں

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں