بلوچستان ،اسپتالوں میں ادویات کافقدان شہری ،میڈیکل اسٹورز سے خریدنے پر مجبور

0

رپورٹ ۔۔۔محمد اربازشاہ۔۔کیمرہ مین ناصرساحل

بلوچستان میں بجٹ کاایک بڑاحصہ سرکاری اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں ادویات کی فراہمی پر خرچ کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کوئٹہ شہر کے سرکاری اسپتال میں مریضوں کوادویا ت نہیں دی جاتیں

حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ تعلیم اور صحت اسکی ترجیحات میں شامل ہیں لیکن دوسری جانب صرف عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں لیکن ان میں مریضوں کاعلاج اللہ کے سہارے پر ہوتا ہے اوران کو ادویات بازار سے مہنگے داموں خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے

شہر میں ایک طرف سرکاری اسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں دوسری جانب شہر میں نجی اسپتالوں کی کہکشاں بنی ہے آئے روز ایک نیا اسپتال وجود میں آجاتا ہے اور مریضوں کوجی بھر کر لوٹا جاتا ہے

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,730

بلوچستان 24 سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے ایک شہری نے کہا کہ حکومت ہسپتالوں میں ادویات فراہم توکرتی ہے مگر ادویات اور باقی سہولیات کی فراہمی پر نظر نہیں رکھتی جس کی وجہ سے ہسپتال انتظامیہ نے حکومتی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نجی میڈکل مالکان سے گٹھ جوڑ کرکے حکومت کی فراہم کردہ ادویات کو نجی دواخانوں کے مالکان کے حوالے کر دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے عوام نجی دواخانوں سے ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔

کوئٹہ کے ایک اور شہری عاطف شاہد کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور نجی میڈیکل سٹورز کے مالکان کے درمیان ایک مضبوط گٹھ جوڑ قائم ہے جسکی وجہ سے ڈاکٹرز اور نجی میڈکل مالکان عوام کو لوٹ رہے ہیں اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو مہینوں کے لئے ہائی ڈوذ ادویات دیکر ان سے اچھی خاصی رقم اینٹھ لیتے ہیں۔

عاطف شاہداور دوسرے شہریوں کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ خدارا بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں ہونے والی بدعنوانی اور سرکاری ڈاکٹرز اور نجی میڈیکل مالکان کی ملی بھگت کا سختی سے نوٹس لیکر ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.