“بلوچستان اسٹارزایوارڈ: “نوازو مجھے کہ یہ کاروبار ہے میرا

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

انہیں کئی کئی دن سیکرٹری اسپورٹس و یوتھ افیئرسے ملاقات کا موقع نہیں ملتا مگر موصوف وقاص ان کے دفتر میں چوبیس گھنٹے براجمان رہتے ہیں ۔

رپورٹ: نمائندہ خصوصی

حقیقی ٹیلنٹ کو نظر انداز کر کے بلوچستان کا محکمہ کھیل ان دنوں کچھ نام نہاد تھنک ٹیکنس کے ہاتھوں میں  گروی ہے۔

 

یوں تو بلوچستان میں یوتھ کے نام پر بہت لوٹ مار جاری ہے مگر حالیہ بلوچستان اسٹار ایوارڈز نامی ایک غیر سرکاری تنظیم نے یوتھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر پرانے سارے ریکارڈز توڑ دئیے ہیں۔

 

گزشتہ دنوں یوتھ کے کچھ حقیقی نمائندوں سے بات ہوئی تو وہ ایسے  نام نہاد یوتھ کے کمپنیوں سے پریشان دیکھائی دئیے ۔

 

ایسے ہی یوتھ کے ایک حقیقی نمائندے یونس خان نے  ہمیں بتایا کہ ایک شخص جس کا نام وقاص ہے وہ پیشہ سے ایک انجینئر ہے کچھ عرصہ پہلے ایک فیس بک پیج کیا بنایا کہ یوتھ کے لیڈر بن گئے ۔

 

بلوچستان اسٹارز کا طریقہ واردات کیا ہے؟

یونس خان  کے بقول : بلوچستان اسٹارز پہلے بلوچستان خصوصاً کوئٹہ کے اعلیٰ عہدیداروں جیسے ڈی سی ، اے سی، سیکرٹریز، سیاست دانوں اور دیگر اہم شخصیات سے انٹرویوز لے کر ان کی خوب خوش آمدید کرتے ہیں ۔

 

جب یہ اعلیٰ عہدیدار ان کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں تو ان سے اپنے ذاتی کام کراتے ہیں ان کے دفتر میں ایسے آنا جانا لگا رہتا ہے کہ جیسے یہ خود ہی ڈی سی اور سیکرٹری لگے ہو۔

 

جمیل احمد کے بقول  : انہیں کئی کئی دن سیکرٹری اسپورٹس و یوتھ افیئرسے ملاقات کا موقع نہیں ملتا مگر موصوف وقاص ان کے دفتر میں چوبیس گھنٹے براجمان رہتے ہیں ۔

 

اتنا ہی نہیں وہ تو سیکرٹری اسپورٹس کے عملے کو احکامات بھی دیتے نظر آتے ہیں محکمے کے ایک  ملازم نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وقاص نامی ایک شخص سارا دن سیکرٹری کے دفتر میں بیٹھا رہتا ہے اور یہاں تک کے وہ ملازمین اور دیگر عملے پر حکم بھی چلاتے ہیں، اس صورتحال سے ملازمین تنگ آچکے ہیں ۔

 

 

اب تو یہ لوگ نہ صرف حکومت بلوچستان بلکہ بلوچستان کے تمام بڑے اداروں محکمہ گیس، کیسکو ، پی ٹی سی ایل اور دیگر نیشنل کمپنیوں سے بھی پیسے بٹور رہے ہیں ۔

 

یوتھ کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے محکمہ کھیل اور بلوچستان اسٹارز کے ایسے کرپٹ نمائندوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ایسے ایوارڈز شوز کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

اس سلسلے میں جب محکمہ اسپورٹس کے اعلیٰ حکام سے موقف لینے کی کوشش کی گئی کہ ایوارڈ شو پر کتنا بجٹ اور کیونکر خرچ کیا جارہا ہے اور آیا ایوارڈ دینے کا طریقہ کار شفاف بھی ہے یا نہیں ۔۔ حکام نے موقف دینے سے انکار کیا ۔

 

اس سلسلے میں بلوچستان چوبیس کی ٹیم  مزید آپ کو اندر کی خبریں پہنچانے کی کوشش کرے گی ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: