عروج فاطمہ

    تحریر ………….نواز مری

ہم ہميشہ سے سنتے آرہے ہیں کہ موسیقی روح کی خوراک ہے ہماری پرانی تاریخ بھی اسی کے دم سے زندہ ہے جب ہم

 اپنی پرانی تاریخ میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر وبیشتر ہمیں اپنی معلومات شاعروں کی شاعری اور

 گلوکاروں کی آواز  سےسننے کو ملتی ہیں

  جہاں تک گلوکار حضرات کی بات کی جائے تو بلوچستان سے ہمیں بہت عظیم گلوکار ملتے ہیں۔

  آج ہم نئے دور کی گلوکارہ عروج فاطمہ کے بارے میں کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عروج بارہ سال کی چھوٹی بچی ہے جو کوئٹہ سے تعلق رکھتی ہے ۔

اس نے اپنی گلوکاری کی شروعات اپنے سکول کی ایک تقریب میں کی تھی۔

عروج کا پہلا استاد اس کے بھائی سید حسن شاہ ہے جو اپنی بہن کی کامیابی کےلیے بہت کوشش کررہا ہے۔

عروج پچھلے چار سال سے گارہی ہے اس نے مختلف پروگراموں میں شرکت کی ہے۔

عروج مختلف زبانوں میں گاتی ہیں اس نے مختلف پروگرامز میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

حال ہی میں اس نے بلوچی فوک “لیلیٰ او لیلیٰ ” نہایت مہارت سے گایا اور بہت شہرت و عزت پائی۔

ہمیں اسطرح کے نئے گلوکاروں، شاعروں اور ادیب نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہ ہو۔

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں