مدرسے کے طلباء سڑک پر بیٹھنے پر مجبور ……….؟

کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر ) کوئٹہ میں شدید سردی کی لہر برقرار ،مدرسے کے منتظم اور طلباء کا انوکھا احتجاج ،سڑک پر طلباء نے پڑھائی شروع کردی

کوئٹہ کے علاقے کباڑی گلی نیو اڈا میں مدرسے کے طلباء نے درجہ حرارت منفی چھ ہونے اور مدرسے میں گیس پریشر میں کمی پر سڑک پر پڑھائی شروع کردی

مدرسے کے منتظم کا کہناہے کہ گیس پریشر نہ ہونے کے باعث مدرسے میں تعلیم تو دور کی بات بیٹھنا بھی محال ہوگیا جس کے باعث ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہیں

مدرسے کی طرف سے ایک بینرز بھی لگایا گیا ہے جس میں گیس فراہم کرنے کامطالبہ کیا گیا

واضح رہے کوئٹہ میں سردی کے موسم میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے نیچے گرجاتا ہے اور سرد خشک ہواہیں چلتی ہیں اور سونے پر سہاگہ کہ گیس پریشر بھی غائب ہوجاتا ہے جس کے باعث شہری ٹھٹھرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں

گیس پریشر میں کمی کیخلاف گزشتہ روز بھی کوئٹہ کے گوالمنڈی چوک سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے آفس تک ریلی نکالی گئی ۔مظاہرین نے سوئی سدرن گیس انتظامیہ اور وفاقی حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی
مظاہرہ علاقائی اتحاد کونسل کی جانب سے کیاگیا ،مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر یونٹ کی قیمت کم کرو ،گیس دو گیس دو ،تیز رفتار میٹرز نامنظور کے نعرے درج تھے

مظاہرے میں انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا نے بھی شرکت کی

اگر شہر میں گیس کے مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو پورا بلوچستان بندکردینگے ۔عوام گیس کے بلوں اور کم پریشر سے تنگ آچکے ہیں ۔گیس کمپنی کے ان ہتھکنڈوں کو اب ہر گز برداشت نہیں کرینگے ،صد ر انجمن تاجران رحیم آغا کا خطاب

پنجاب ،سندھ ،کے پی کے مسترد شدہ میٹرز ،بلوچستان کے غریب عوام کے گلے میں ڈالے جارہے ہیں ،مظاہرین سے نورالدین کاکڑ ،اکبر شاہ کا خطاب

https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js

اپنا تبصرہ بھیجیں