کرونا ۔غریب ووٹرز اور نصیر آباد کی سیاسی اشرافیہ

کرونا جیسی مصیبت میں حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی غائب ہے

0

 

گستاخیاں/ولی محمد زہری

کوروناوائرس ایک عالمی وبا ہے اس  نے جہاں کورنا وائرس: بلوچستان میں ٹیسٹوں کی طلب زیادہ، روزانہ کے بنیاد پر صرف 250ٹیسٹ ہورہے ہیںدنیا میں تباہی مچا دی ہے

 

لاکھوں اموات اس سے کہیں زیادہ افراداس خطرناک اورموذی مرض سے متاثر ہوئے ہیں

 

پاکستان بھی کوروناسے متاثرہ ممالک میں کرونہ وائرس کے پیش نظر تمام ایکسپائر ہونے والے پاکستانی پاسپورٹ کی مدت میں 30 جون 2020 تک توسیعشامل ہے

 

اب تک سات ہزارسے زائد افراد کوروناسے متاثر ہو چکے ہیں 140کے قریب اموات ہوئی ہیں

اس کی ہلاکت خیز  تباہ کاریاں جاری ہیں آج کل حالت یہ ہو گئی ہے

 

کوئی کسی دوسری مرض میں مبتلا ہو کر مرے بھی تو وہ کوروناکے باعث ہلاکت میں شمار کیا جارہا ہے ۔

 

کورونا کو ایک خطرناک وبا پیش کرکے حکومت صرف تعداد مریض بتانے پر گزارہ کر رہی ہے ۔

 

بلوچستان میں کورونا کے علاج اور معالجہ مکمل نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

 

اس  کا اندازہکورونا، لاک ڈاون اور جام کمال کے کمالات جعفر آباد میں کوروناوائرس کے مشتبہ افراد کے قریطینہ سینڑ کے ان محصور مریضوں کے ویڈیو سے لگایا جا سکتا ہے

 

جہاں نہ تو انہیں صاف پانی مل رہا ہے اور نہ ہی بہترین خوردنی غذا وغیرہ علاج تو دور کی بات ہے

 

صرف ان کو جیل نما کمروں میں قید کرکے مزید انہیں کورونا کی وحشت سے ہی اپنی امور آپ مارنے کے مترادف ہےچھوڑ دیا گیا ہے ۔

 

بلوچستان میں گزشتہ ہفتےسے ہی کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے

 

یہ  تشویشناک ہے تاہم بلوچستان میں کوروناسے ہلاکتیں انتہائی کم ہوئی ہیں ۔

 

 

بلوچستان ملک کاواحد صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں روڈ حادثات کے باعث ہوتی ہیں

 

صوبے میں تین بڑی قومی شاہراہیں ہیں جو 1970سے ہی اب تک سنگل ہیں

 

اسی وجہ سے آئے روز حاثادت سے روزانہ درجنوں اموات ہوتی تھیں

 

لیکن کورونا وائرس اس حوالےسے بلوچستان کے عوام کےلئے خوش قسمت ہی ثابت ہوئی ہے

 

لاک ڈاون پبلک ٹریفک کی بندش کے باعث صوبے میں اموات کی شرح کافی حد تک کم ہوئی ہے

 

اور یہ شرح اموات میں کمی یقینا ٹریفک  نہ ہونے کے باعث کم ہوئے ہیں

 

جبکہ دوسری جانب جہاں کورونا وائرس نے صوبے میں لاک ڈاون سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں

 

وہاں روزانہ اجرت کرنے والے مزدور طبقہ گھروں میں ہی محصور ہو کر نان شبینہ کا محتاج ہو چکے ہیں

 

وہاں اب عوام کواحساس ہو رہا ہے کہ جو سیاسی لیڈران انتخابات اور الیکشن میں متحرک نظر آتے ہیں

 

اب وہ کہیں بھی نہ تو نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی عوام کے دکھ سکھ اور مصیب کی اس گھڑی میں عوام کو یاد کر رہے ہیں

 

عوام کو اب اندازہ ہو چکا ہے کہ یہ سیاسی اشرافیہ انتخابی وقت ہی کی یاری کرتے ہیں

 

اور انتخابات میں ہی وہ صرف عوام کے ہمدرد بننے کی کوشش کرکے عوامی ووٹ حاصل کرتے ہیں

 

اس کے بعد کورونا وائرس جیسی خطرناک وبائیں اور مصیبتوں میں نصیرآباد کی سیاسی اشرافیہ عوام سے سوشل دوری اپنا کر ہی اپنی جان کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں

 

نصیرآباد میں منتخب ایم پی ایز اور اکلوتا ایم این اے سمیت اپوزیشن امیدواران سیمت دیگر سیاسی پارٹیوں نے تاحال چپ کا روزہ رکھ کر عوام کی مزاج پرسی تک نہیں کی ہے

 

نصیرآباد کے سیاسی اشرافیہ کورونا وائرس کے اس مشکل دور میں صرف اپنی زکوات اور عشر نکال کر ان روزانہ اجرت کرنے والے

 

مجبور و محکوم عوام کو دے دیں تو انہیں کافی حد تک ریلیف مل سکتا ہے

 

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

اور ساتھ ہی ان سیاسی اشرافیہ کی دنیاوآخرت بھی سنور سکتی ہے

 

تاہم حکومتی نمائندوں کی اس مشکل گھڑی میں عوام سے دوری

 

یقینا عوام کےلئے قانون سازی کرنے عوام کےلئے فنڈز اور ریلیف کی فراہمی کےلئے اقدامات کرنے جیسے بہانہ توہو سکتے ہیں

 

اور یہ مصروفیات ان کوعوام سے دور کرنے کا موجب بھی بن چکے ہیں

 

تاہم اپوزیشن کی عوام سے دوری میں کوئی خاص منطق تاحال سمجھ سے بالاتر ہے

 

عوام اور ووٹرز مشکل وقت و حالات میں مدد اور ساتھ دینے والوں کے احسانات کو ہر اہم موڑ اور وقت پریاد کرتی ہے

 

لیکن کورونا وائرس جیسی وبا نےاپوزیشن کو بھی عوام سے بہت ہی دور اور بےخبر کردیا ہے

 

نصیرآباد میں ایک ڈپٹی کمشنر ظفر بلوچ کے تبادلے پر متحد ہونے والی اپوزیشن اب تک کوروناوائرس پر کیوں متحد نہیں ہوسکی ہے

 

جو اپنے مفادات کےلئے متحد ہو سکتے ہیں کیا عوام کے حقوق اور عوامی و علاقائی ترقی کےلئے عوامی سیاسی جدوجہد کرنے والے سیاست کا دعوی کرنے والے لیڈران نصیرآباد مصیبت کی اس مشکل گھڑی میں عوام کےلئے متحد نہیں ہو سکتے؟

 

نصیرآباد کی اپوزیشن قیادت اور لیڈران کا متحد نہ ہونےاور عوام کو ریلیف ومدد فراہم کرنےسے کیوں قاصر ہے یہ مجھ نا چیز کی سمجھ سے بالا تر ہے

 

کیا نصیرآباد میں سیاست صرف انتخابات کے وقت تک محدود ہو چکی ہے؟

 

کیا عوام کو مشکل وقت اور کورونا وائرس میں بے یارومدگار چھوڑنے والے سیاسی اشرافیہ اگلے انتخابات میں پھر عوام سے کس طرح کی ہمدردی جتائیں گے

 

اپوزیشن کس طرح حکومتی امیدواروں کی مخالفت اور سیاسی نعرہ لگاکر عوام کی ہمدردی کس طرح حاصل کرسکےگی

 

تاہم یہ وقت ہی فیصلہ کریگا کہ عوام کس کروٹ بیٹھتی ہے

 

کورونا بھی عجب بیماری ہے اس نے عوام کو بتا دیا کہ آپ کا ہمدرد کون ہے

 

اپوزیشن اور حزب اقتدار نے تو مشکل اور مصیبت میں آپ کو یکسر بھول دیا ہے

 

لیکن نصیرآباد میں بھی کوئی فیصل ایدھی اور انصار برنی کی طرح کا کوئی بھی بندہ نہیں جو مشکل کی اس وقت میں عوام کا مسیحابن کر مدد کرے

 

بےروزگار اور مزدور طبقہ کو ان کی گھر کی دہلیز تک بغیر نمودونمائش کے راشن پہنچائے

 

حکومتی و اپوزیشن امداد تاحال ہنوز دلی دوراست کے مترادف ہے

 

تاہم ڈیرہ مراد جمالی میں میر شکوکت بنگلزئی نے کسی حد تک غریب عوام کی دلجوئی کرکےمشکل کے اس وقت میں عوام کی کسی حد تک مدد کرکے عوام کے ہمدرد یقینا بن گئے ہیں

 

تاہم حکومت اور اپوزیشن زندہ باد مردہ باد کرانے والے عوام کو تاحال کچھ نہیں دے سکی ہے

 

جب حکومت کچھ نہیں دے رہی تو مہربانی کرکے لاک ڈاون ختم کرنے کا اعلان کرے

 

لاک ڈاون ختم کرانے کا اعلان بھی حکومت کی جانب سے عوام کےلئے بڑا ریلیف ثابت ہو سکتا ہے

 

یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومتی امداد عوام کےلئے کبھی بھی بہتر ثابت نہیں ہو سکی ہے

 

اور کسی بھی حکومتی امداد میرٹ پر عوام کوآج تک مل بھی نہیں سکی ہے

 

اس لئے عوام کو بھکاری بنانے کے بجائے لاک ڈاون ختم کرکے انہیں اپنی محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کا موقع دیں

 

تاکہ وہ کسی حکومتی یا اپوزیشن کے امداد کے سہارے بھوک سے نہ مر جائیں

 

تاہم آنے والے انتخابات میں کورونا وائرس اہم کردار ادا کر سکتا ہے

 

اور انتخابی کامیابی کا بھی سمت طے کر سکتا ہے

 

اور انتخابی ورک کے دوران ہی امیدواروں کو انتخابی صورتحال اور عوامی غضب کا بخوبی اندازہ بھی ہوجائے گا

 

تاہم یہ قبل ازوقت قیاس ہے.

 

نوٹ ۔۔۔ادارے کا،مضمون نگار کے رائےسے متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.