کوئٹہ پریس کلب کی تاکہ بندی کا معاملہ: صحافیوں کا ملک گیر احتجاج کا فیصلہ 

0
ویب رپورٹ
بلوچستان یونین آف جرنلسٹ اور کوئٹہ پریس کلب کے ایگزیکٹو ممبران سمیت تمام سینئر صحافیوں کا مشترکہ ہنگامی اجلاس صدر پریس کلب عبدالخالق رند اور صدر بی یو جے خلیل احمد کی زیر صدارت کوئٹہ پریس کلب میں منعقد ہوا۔
 جس میں گزشتہ روز ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب پر دھاوا بولنے اور پریس کلب کی تالہ بندی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
 اجلاس میں آزادی صحافت پر قدغن اور صوبائی حکومت کی بے حسی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
 اجلاس کے شرکاء نے کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت حاصل اظہار رائے پر حملہ اور صحافیوں کو انکے صحافتی امور  کی انجام دہی سے روکنے کا انتہائی اقدام قرار دیا۔
 شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پریس کلب کی بندش سے نہ صرف صحافی برادری بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759
 اس انتہائی اقدام کے خلاف اگر بھرپور احتجاج نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں معاشرہ لوگوں کی آواز بننے والے طبقے سے محروم ہو جائے گا۔
اجلاس میں پریس کلب کی تالہ بندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام سینئر اراکین و ممبران نے متفقہ طور پر ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
 احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے میں مطالبات کی منظور ی کےلئے کل ہونیوالے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے واک آوٹ اور اسمبلی کے باہر احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
جس میں صوبائی حکومت کو 4 نکاتی مطالبات پیش کئے جائیں گے۔
مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت دوسرے مرحلے میں21 مئی کو یوم سیاہ کے عنوان سے ملک گیر تحریک کا آغاز کیا جائے گا
 پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کی کال پر پاکستان بھر کے تمام پریس کلبز میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
ملک گیر احتجاجی تحریک میں ملک بھر کے پریس کلبس کے باہر سیاہ جھنڈے لہرائے جائیں گے اور بلوچستان حکومت کے خلاف پورے ملک کی صحافی برادری اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔
You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.