بھارت میں ’دی کشمیر فائلز‘ کی نمائش کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگ گئے

0

پاکستان اور مسلم مخالف بولی وڈ فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کی نمائش کے دوران بھارتی ریاست تلنگانہ کے سینما میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگنے سے ہندوستانی شائقین برہم ہوگئے۔

ریاست تلنگانہ کے شہر عادلپور کے علاقے بھکتاپور میں نترج سینما میں 18 مارچ کو متنازع فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کو دکھائے جانے کے وقت وہاں موجود دو افراد نے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے۔

پاکستان مخالف فلم کی نمائش کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والے دونوں افراد کو سینما میں موجود افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا اور سینما میں جنگ کا ماحول ہوگیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ انتہاپسند ہجوم کے ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد سینما انتطامیہ نے پولیس کو بلایا تو معاملہ ٹھنڈا ہوا، تاہم اس وقت تک ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والے افراد وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں
1 of 8,759

پولیس کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دشمن ملک کے زندہ باد کے نعرے لگانے والے افراد کون تھے اور ان پر تشدد کرنے والے افراد کی بھی تلاش جاری ہے۔

پولیس نے سینما انتظامیہ سے سی سی ٹی وی فوٹیجز لے کر معاملے کی تفتیش شروع کردی، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مسلم مخالف فلم کے دوران ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والے افراد کون تھے؟

سوشل میڈیا پر مذکورہ واقعے کی ایک غیر مصدقہ ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے، جس میں سینما کے اندر جھگڑے کے مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

’دی کشمیر فائلز‘ کی نمائش کے دوران ہاکستان کی حمایت میں نعرے لگنے سے قبل اسی فلم کے دوران بھارت بھر میں مسلم مخالف نعرے لگائے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں اور بھارتی میڈیا کے مطابق مذکورہ فلم کی نمائش کے بعد وہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

’دی کشمیر فائلز‘ کو کچھ دن قبل ریلیز کیا گیا تھا، جس کی کہانی 1990 میں مقبوضہ کشمیر میں کی گئی نسل کشی پر مبنی ہے لیکن حیران کن طور پر فلم میں مسلمانوں کے بجائے پنڈتوں کی نسل کشی کو دکھایا گیا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

’دی کشمیر فائلز‘ کی کہانی اور ہدایات وویک رنجن نے دی ہیں جب کہ وہ فلم کے شریک پروڈیوسر بھی ہیں۔

وویک رنجن کی اہلیہ اداکارہ پلوی جوشی نے بھی فلم میں اہم کردار ادا کیا ہے جنہیں ایک طرح سے پاکستانی مہرے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

فلم کو ریلیز کیے جانے کے بعد جہاں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت دیکھی گئی، وہیں دنیا بھر میں فلم پر حقائق کو غلط پیش کرنے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہےکہ پروپیگنڈا کے تحت بنائی گئی مذکورہ فلم میں پاکستان کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی ظلم کے خلاف لکھی گئی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے، جسے انتہاپسند مسلمانوں کے کردار ادا کرنے والے اداکاروں پر فلمایا گیا ہے۔

پاکستان اور مسلم مخالف فلم میں پاکستانی شاعر کی نظم کو شامل کیے جانے پر بھی ’دی کشمیر فائلز‘ کی ٹیم پر تنقید کی جا رہی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.