بلوچستان ،ای اسمبلی ،خواتین اراکین اسمبلی کاشکوہ ، جائے نماز نہیں

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر )بلوچستان کے عوام کی معلومات تک رسائی ، شفاف طرز حکومت ، ماحولیات کی حفاظت اور حکومتی اخراجات میں کمی ناگزیر ہوچکی ہے

ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے طرز پر بلوچستان صوبائی اسمبلی کو ای ،اسمبلی قرار دینے کے لئے فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دے کر فنڈز مختص کرے

بلوچستان اسمبلی میں میں نصراللہ زیرے ، شام لعل اور شاہینہ بی بی کی مشترکہ قرار داد

نصراللہ زیرے
ای اسمبلی وقت کی ضرورت ہے گزشتہ دنوں ہم نے خیبر پشتونخوا کا دورہ کیا توخیبر پشتونخوا اسمبلی کا بھی دورہ کیا کے پی کے اسمبلی ملک کی پہلی ای اسمبلی ہے جس کی تمام تر کارروائی کمپیوٹرائزڈ ہے ہر رکن کے سامنے کمپیوٹرموجود ہوتا ہے اور تمام کارروائی ان کے سامنے موجود ہوتی ہے ایک کلک پر تمام کارروائی سامنے آجاتی ہے اس سے ایک جانب ارکان کو کاغذات کے ڈھیر سنبھالنے سے نجات مل جانے کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت اور اسمبلی کو بھی کارروائی کی طباعت و اشاعت پر بھاری اخراجات نہیں کرنے پڑیں گے

تحریک کے محرک شام لعل لاسی

ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان اسمبلی کو بھی ای اسمبلی میں تبدیل کیا جائے اس سے بڑی سہولت مل جائے گی

صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران

ارکان نے جو قرار داد پیش کی ہے ہم پہلے ہی اس پر کام کررہے ہیں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ جو کئی سالوں سے التواء کاشکار رہی ہے اب موجودہ حکومت نے اس پر عملدرآمد شروع کردیا ہے منصوبے پر وزیراعلیٰ نے دستخط کردیئے ہیں دو ارب 28کروڑ روپے کے منصوبے پر جلد عملدرآمد شروع ہوجائے گا
َانہوں نے کہا کہ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے کوئٹہ میں آئی ٹی ویلج قائم کررہے ہیں جس کے لئے زمین اور پچاس کروڑروپے مختص کردیئے گئے ہیں جہاں پر نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گی ۔

ای فائلنگ پر بھی کام شروع کرنے جارہے ہیں دو تین ماہ میں عملدرآمد شروع کردیں گے بلوچستان اسمبلی کو ای اسمبلی میں تبدیل کرنے سمیت ایوان کے فرنیچر ، ساؤنڈ سسٹم کے لئے بھی بہت جلد فنڈز جاری کردیئے جائیں گے

صوبائی وزیر ظہور بلیدی

ہم سمارٹ گورنمنٹ کی طرف قدم بڑھانے جارہے ہیں حکومت پی اینڈ ڈی ، ریونیو ، ایکسائز ، فنانس کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے جارہی ہے ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی کوای اسمبلی بنانے سے متعلق اقدامات اٹھائیں حکومت ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔ بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طو رپر منظور کرلی ۔

اجلاس میں خواتین اراکین اسمبلی نے ایوان میں موثر نمائندگی نے دیئے جانے پر تحفظات کا اظہار

رکن بلوچستان اسمبلی نے ایوان کی توجہ وومن چیمبر میں سہولیات کی عدم موجودگی کی جانب مبذول کرائی

خواتین اراکین کے چیمبر میں میں سہولیات کا فقدان ہے نماز کی ادائیگی کے لئے جائے نماز تک میسر نہیں ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ ہم خیراتی نشستوں پر ایوان میں منتخب ہو کر آئے ہیں مخصوص نشستوں پر آنے والے اراکین اور منتخب ہوکر آنے والے اراکین میں کوئی فرق نہیں دونوں کو برابری کی بنیاد پر نمائندگی ملنی چاہئے

سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو خصوصی عزت و احترام حاصل ہے خیراتی نشستوں کی بات ہم نے کبھی نہیں کی جو ایسا بولتے ہیں ہم اس کی مذمت کرتے ہیں

بی این پی کی شکیلہ نوید دہوار نے گزشتہ تین ماہ کے دوران کڈنی سینٹر سے متعلق اپنے سوالات کے جواب نہ ملنے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے سوالات کو اہمیت نہیں دی جارہی تو پھر ہم آج کے بعد بات ہی نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ کڈنی سینٹر میں بارہ سالوں سے تعینات لوگوں کو برطرف کیا گیا ہے اس ایوان میں ان کی آواز بننا ہمارا سیاسی اور اخلاقی فرض ہے میری متعلقہ محکمے سے استدعا ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں کڈنی سینٹر سے متعلق جمع کرائے گئے سوالات کا جواب دیں ۔

اجلاس میں ملک نصیر شاہوانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پٹواریوں کے ریکارڈ کے نظام کو بھی کمپیوٹرائز ڈ کیاجائے جس پر صوبائی وزیر ریونیو سلیم کھوسہ نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ سے ہم نے شروعات کرلی ہیں کوئٹہ کے بعد مرحلہ وار تمام صوبے میں پٹواریوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں