بھارت نے پاکستان کاپانی روکنے کی دھمکی دیدی

ویب ڈیسک

ٹوئٹر پر بھارتی وزیر آبی وسائل نیتن گاڈکری نے ٹویٹ کی ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں ہماری حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب بہنے والے پانی کو روکیں گے مشرقی دریاؤں سے پانی کا رخ موڑ کراسے مقبوضہ کشمیر اورپنجاب میں اپنے لوگوں کو دینگے

دریائے راوی پر شاہ پور اور کانڈی پر ڈیم کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا ہے

بھارتی وزیر کی دھمکی پر پاکستان کے انڈس کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کا پانی بند نہیں کرسکتا اس کے پاس ہمارے دریاؤں میں آنیوالا پانی روکنے یا موڑنے صلاحیت نہیں ہے

بھارت میں سیاسی لوگ سیاسی باتیں کرتے ہیں ان پر عمل ممکن نہیں سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب ،جہلم اور سندھ کے پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا تھا جبکہ راوی ،ستلج اور بیاس بھارت کے حوالے کیے گئے تھے

سندھ طاس معاہدہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی کشیدگی کا معاملہ ہر وقت موضوع بحث بنارہتاہے
1960میں پاکستان اور بھارت نے دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا تھا جسے سندھ طاس معاہدے کے نام سے جانا جاتا ہے جس پر دونوں ممالک متفق ہوئے تھے

1948 میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے مشرقی دریاوٴں کا پانی بند کرنے پر دونوں ملکوں میں موجود کشیدگی بڑھ گئی تھی جو کئی برس تک چلتا رہا جس کے بعد ستمبر 1960میں کراچی میں دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا جس کا ضامن عالمی بینک بنا

معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ ،جہلم اور چناب سے سے آنے والے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا۔ جب کہ پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاوٴں بیاس، راوی اور ستلج کا کنٹرول بھارت کو دے دیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت کی طرف سے متنازعہ پاکستان کی طرف جانیوالے دریاؤں پر ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر پاکستان عالمی بینک سے رجوع کرتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں