کوئٹہ میں ٹریفک کا مسئلہ ،شہریوں کادرد سر

رپورٹ ۔۔۔۔مدثر محمود

کوئٹہ بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکے مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں جن میں سرفہرست ٹریفک کے مسائل ہیں کوئٹہ میں ٹریفک بیورو کے قیام کا مطالبہ گزشتہ دس سالوں کیلئے کیا جارہا ہے لیکن تاحال اس پر پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ۔شہر میں غیر قانونی طور ہر چلنے والے رکشے بھی ٹریفک کی روانی میں بڑی رکاوٹ ہیں ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں چار ہزار سے زائد غیر قانونی رکشے چل رہے ہیں۔

کوئٹہ میں پارکنگ پلازہ نہ ہونے کی وجہ سے تاجر اور دیگر خریداری کیلئے آنے والے لوگ سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کردیتے ہیں جس کی وجہ سے کوئٹہ کی تنگ سڑکیں مزید چھوٹی پڑ جاتی ہیں میٹرو پولیٹن کی جانب سے کوئٹہ کے چار مقامات پر چار منزلہ کار پارکنگ قائم کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

صرف سرکلر روڈ پرانے اڈے کی جگہ پر کام شروع ہوا لیکن یہ پلازہ بھی پانچ سالوں سے زیر تعمیر ہی ہے ٹریفک کے مسائل شہر میں اسکول کھل جانے کے بعد مزید بڑھ گئے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ پارکنگ پلازہ فوری تعمیر کئے جائیں اور غیر قانونی رکشوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

شہریوں کامطالبہ ہے کہ کوئٹہ میں دن کے اوقات میں بڑی گاڑیوں کا داخلہ سریاب روڈ اور قمبرانی روڈ سے روکا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی گاڑیاں ضبط کی جائیں

اس حوالے سے بلوچستان 24ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ کے شہری سلیم کا کہنا تھا” سڑکوں کو چوڑا کیا جائے،انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ٹریفک حکام غیرقانونی طور پر سڑکوں پر گاڑی مالکان سے پیسے لیتے ہیں اس لیے سڑکوں پر گاڑیوں کی بھرمار ہے اعلیٰ حکام اس کا نوٹس لیں اور سڑکوں سے گاڑیوں کو ہٹائیں تاکہ ٹریفک کی روانی شہر میں برقرار ہو۔

شہری حاجی توفیق کا کہنا تھا کہ انگریزوں نے اس شہر کو پچاس ہزار آبادی کیلئے بنایاتھا اب شہر کی آبادی پچیس لاکھ کے قریب ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل زیادہ ہیں دوسری طرف حکومت نے بھی طویل المدتی منصوبے نہیں بنائے جس سے ٹریفک کے مسائل کم ہوں حکومت کو چاہیے کہ وہ کوئٹہ میں واقع بائی پاس کو وسیع کرے تاکہ شہر پر ٹریفک کا بوجھ کم ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں