کرائسٹ چرچ حملے کی مذمت ،ہمیشہ کہتے ہیں دہشتگردی کاکوئی مذہب نہیں ہوتا ،عمران خان

مانیٹرنگ ڈیسک

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ہماری دعائیں متاثرہ خاندانوں کیساتھ ہیں اور ان کیلئے ہم دعاگو ہیں

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی مصیبت اب براعظمی سرحدیں عبور کرچکی ہے،عالمی برادری کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہونگے

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیوزی لینڈمیں2 مساجد میں فائرنگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 40 ہوگئی جبکہ 20 سے افراد زخمی ہوگئے ہیں فائرنگ کا واقعہ دوپہر میں نماز جمعہ کے وقت پیش آیا۔نیوزی لینڈ کے پولیس حکام کے مطابق 4 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جن میں 3 مرد اور ایک خاتون شامل ہے، حملے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کا کنٹرول سنبھال کر کرفیو نافذ کردیا۔

نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اورکہاکہ نیوزی لینڈ میں اس طرح کے انتہا پسندانہ اقدامات کی کوئی جگہ نہیں، یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

اس طرح کے حملوں کی کوئی مثال نہیں ملتی اور ایسے لوگوں کے لیے نیوزی لینڈ میں کوئی جگہ نہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسی جگہ پیش آیا جہاں لوگ اپنی مذہبی آزادی کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں محفوظ ماحول میں ایسا کرنا چاہیے تھا لیکن آج ایسا نہیں ہوا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس حملے میں جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، نیوزی لینڈ ان کا گھر تھا اور انہیں یہاں محفوظ رہنا چاہیے تھا لیکن جن لوگوں نے حملہ کیا، ان کی نیوزی لینڈ کے لیے نیوزی لینڈ کے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

حملہ آور کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں اس نے حملے کو سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر لائیو دکھایا جس میں وہ سیمی آٹو میٹک گن سے مسجد کے اندر لوگون کونشانہ بنارہا ہے اور ویڈیو میں ایسے لگتا ہے کہ کوئی گیم چل رہا ہے جس میں جیسے کوئی باہر نکلتا ہے تو اسے نشانہ بنایا جاتا ہے

حملے کے وقت بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم بھی مسجد میں موجو د تھی جو معجزانہ طورپر محفوظ رہی کھلاڑیوں نے بھاگ کر جان بچائی

اپنا تبصرہ بھیجیں