بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں کاربونیٹڈ ڈرنکس کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد

ویب ڈیسک

بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا پہلا اجلاس ،اتھارٹی کو بھرپور طریقے سے فعال کرنے کیلئے اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے پہلے اجلاس میں فوڈ اتھارٹی کو بھرپور طریقے سے فعال بنانے کے لئے اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی،

اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ بلوچسان جام کمال نے کی ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی میجر (ر) بشیر احمد نے اجلاس کو اتھارٹی کے امور کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اجلاس میں تعلیمی اداروں میں کاربونیٹڈ ڈرنکس کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ مضر صحت اجینوموٹو کی خریدوفروخت پر بھی پابندی عائد ہوگی اور گٹکا کی خریدوفروخت اور سمگلنگ پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔

اجلاس میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ غیر معیاری اور صحت کے اصولوں کے منافی تیار کی گئی اشیاء خوردونوش کے استعمال سے عوام کی صحت پر بالعموم اور بچوں اور خواتین کی صحت پر بالخصوص مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں، بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما اور آئرن کی کمی کے باعث خواتین کی صحت بھی متاثر ہورہی ہے،

اس صورتحال کے تناظر میں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فلورملوں اور خوردنی تیل بنانے والی فیکٹریوں کو صحت کے اصولوں اور مقررکردہ معیار کے مطابق آٹے اور تیل میں ضروری وٹامنز، منرلز اور آئرن شامل کرنے کا پابند کیا جائے گا،

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ چھ ماہ کے اندر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں فوڈ ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا،

بلوچستان فوڈ اتھارٹی میں اسپیشل مجسٹریٹ کی تعینانی اور ڈیپوٹیشں کی بنیاد پر محکمہ خوراک اور محکمہ صحت سے فوڈ ٹیکنالوجسٹ اور ماہرین صحت کی خدمات اتھارٹی کے سپرد کرنے کی منظوری بھی دی گئی،

اجلاس نے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو موبائل ٹیسٹنگ یونٹ اور دیگر ضروری سہولتوں کی فراہمی کی بھی منظوری دی ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کاروائیوں میں تاجر تنظیموں کے مقرر کردہ نمائندے بھی شامل ہوں گے،

ملاوٹ اور جعلی اشیاء خوردونوش بنانے والوں کی اطلاع دینے والے کو انعام دیا جائے گا اور اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

دکانداروں میں مضر صحت اور ملاوٹ شدہ اشیاء خوردونوش فروخت نہ کرنے کے حوالے سے آگہی مہم شروع کی جائے گی،

وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام کی صحت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور مضر صحت اشیاء خوردونوش اور جعلی مصنوعات کے خلاف موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان قوانین میں ترامیم او رنئے قوانین بھی بنائے جائیں گے۔

قوانین موجود ہونے کے باوجود آج تک ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، قوانین کا نفاذ ہوگا تو عوام تک ان کے مثبت اثرات ضرور پہنچیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی فعالی تاجروں اور دکانداروں کے بھی بہترین مفاد میں ہے، مارکیٹ سے جعلی مصنوعات کے خاتمے سے صحیح کاروبار کرنے والوں کو فائدہ پہنچے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ہم سب کی سماجی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم ایک صحت مند معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں اور اونر شپ لیں۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ عوا م اور بزنس کمیونٹی میں شعور کی بیداری کے لئے خصوصی مہم چلائی جائے اور سیمیناروں کا انعقاد کیا جائے۔ اجلاس میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے رکن صوبائی وزیر خوراک سردار عبدالرحمن کھیتران، رکن صوبائی اسمبلی اصغر خان اچکزئی،متعلقہ محکموں کے سیکریٹری اور حکام کے علاوہ تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں