بلوچستان مواقعوں کی سرزمین ہے ،وزیراعلیٰ جام کمال

رپورٹ ۔۔ندیم خان

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان کے محاصل میں اضافے کے لئے سخت فیصلے ناگزیر ہیں، اگر صوبے کی آمدنی میں اضافہ نہ کیا گیا تو ترقی نہیں ہوگی اور جب ترقی نہیں ہوگی تو امن وامان خراب ہوگا جس سے سیاستدان، بیوروکریٹس او ر ہر طبقہ زندگی متاثر ہوگا،ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ اپنے انفرادی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صوبے کو بچانا ہے

بے پناہ قیمتی معدنی وسائل رکھتے ہوئے بھی ہماری سالانہ آمدنی صرف پندرہ ارب روپے ہے، اگرصرف معدنی شعبہ کو ترقی دے کر جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو اس کی آمدنی سے پورے صوبے کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے

ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ معدنیات ومعدنی ترقی حکومت بلوچستان کے زیراہتمام معدنی ترقی کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ بین الاقوامی سیمینار کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزراء واراکین اسمبلی، چیف سیکریٹری بلوچستان اختر نذیر، پی پی ایل، بی ایم ای، آئی ایل او، ایم سی سی اور معدنی شعبہ کی دیگر کمپنیوں کے نمائندگان اور سرمایہ کاروں نے سیمینار میں شرکت کی

وزیراعلیٰ نے سیمینار کے انعقاد کو معدنی شعبے کی ترقی کی جانب ایک اہم پیشرفت قراردیتے ہوئے کہا کہ عمومی طور پر بلوچستان ریکوڈک، سیندک، سی پیک، ساحل ووسائل اور قیمتی معدنی ذخائر کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے، ان منصوبوں اور وسائل پر ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے اور سیمینار بھی منعقد ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ابھی تک ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھاسکے ہیں اور نہ ہی ان منصوبوں کا صوبائی محاصل میں کوئی بڑا حصہ ہے

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مائننگ سیکٹر ہمارا بڑا اثاثہ ہے، بلوچستان میں کئی معدنی ذخائر ایسے ہیں جو ابھی تک دریافت نہیں ہوئے، صرف کوئلہ کی کانکنی کی جارہی ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار منسلک ہے اسی طرح مسلم باغ میں کرومائیٹ اور خضدار میں بیریم کی کانکنی کی جارہی ہے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ کی عدم دستیابی انسانی وسائل کا نہ ہونا اور بجلی کی کمیابی، منرل سیکٹر کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کار اس شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچاتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں اربن سینٹرز نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کی خام معدنیات کراچی اور دیگر صوبوں میں بھیجی جاتی ہیں کیونکہ بزنس مین یہاں اپنا سرمایہ نہیں لگانا چاہتے اور مقامی سرمایہ کاروں کے ذریعہ خام مال صوبے سے باہر لے جاتے ہیں جس کا بعض اوقات مقامی سرمایہ کاروں کو نقصان بھی ہوتا ہے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی حکومت،ادارہ اور کمپنی موثر پالیسی اور مستحکم مالی پوزیشن کے بغیر نہیں چل سکتے، کاروباری دنیا میں تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، بزنس کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ہمیں بھی ایسی پالیسیاں اپنانے کی ضرورت ہے جو بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے پرکشش ہوں اور وہ اپنے سرمائے کو محفوظ تصور کریں

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا کام بروقت اورتیز رفتار فیصلہ سازی، پالیسی بنانا، گورننس بہتر کرنا اور ٹیکس لینا ہے جبکہ نجی شعبہ کا کام سرمایہ کاری کرنا ہے،حکومت نجی شعبہ کے ساتھ شراکت داری کی جانب جائے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ موڈ کے رحجان کی حوصلہ افزائی کرے گی، انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے منرل انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے گا، مائننگ رولز میں ترامیم کی جائیں گی، انسانی وسائل کو ترقی دی جائے گی اور جیالوجیکل سروے آف پاکستان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا

وزیراعلیٰ نے کہاکہ 2002سے آج تک سترہ سال میں منرل رولز میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی اور 2002کے منرل رولز میں صوبے کے مفادات کی بجائے انفرادی مفادات کو تحفظ دیا گیا، یہی وجہ ہے کہ اس سیکٹر سے صوبہ کو سالانہ صرف دو سے اڑھائی ارب روپے کے محاصل ملتے ہیں، جبکہ اس سے زیادہ ایک فیکٹری مالک کی سالانہ آمدنی ہوتی ہے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان مواقعوں کی سرزمین ہے، سی پیک سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے راستے کھل گئے ہیں، یہ اور بات ہے کہ سی پیک کے منصوبوں میں ہمیں کچھ ملا یا نہیں، اس کی ذمہ داری ہم سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج دوست ممالک بلوچستان میں معدنیات، زراعت اور آئل ریفائنری میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں، ہم نے ان تمام امور کو صحیح سمت میں رکھ کر بلوچستان کو خودانحصار اور خودکفیل بنانا ہے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں سال بلوچستان کی ترقی کا سال ثابت ہوگا جس میں بنیادی ڈھانچہ، سڑکیں اور ڈیمز بنیں گے، مکران اور رخشاں ڈویژن کو آئندہ دوسال تک نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا جائے گا اور توانائی کے متبادل ذرائع ترقی کریں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ معدنیات کی ویب سائٹ بنادی گئی ہے جس کے ذریعہ معدنی شعبہ میں سرمایہ کاری کے خواہشمند سرمایہ کاروں کو معدنی ذخائر، اراضی کے حصول اور دیگر تمام متعلقہ امور کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل ہوں گی

انہوں نے کہا کہ جدید کاروبار میں سرمایہ کاری کے امکانات دیکھے جاتے ہیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب مکمل معلومات پر مشتمل ڈیٹا بیس دستیاب ہو، وزیراعلیٰ نے کہا کہ محکمہ معدنیات کا اسٹرکچر بہتر بناکر اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، محکمہ کے افسران کو ضروری تربیت اور ترغیبات بھی دی جائیں گی، محکمے میں جہاں بھی گنجائش اور ضرورت ہے بہتری لائی جائے گی

انہوں نے کہا کہ بلوچستان منرل پالیسی میں ترامیم کے ذریعہ ایسا فریم ورک متعارف کیا جائے گا جس کے تحت لیز کے حامل الاٹی الاٹمنٹ لے کر بیٹھے نہ رہیں بلکہ اس پر کام کریں اور مقامی شراکت داری کی
جانب آئیں جس سے ایک جانب تو روزگار آئے گا اور دوسری جانب حکومت کو رائلٹی ملے گی

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مائننگ رولز کے تحت کئے گئے فیصلوں کا قانونی تحفظ بھی ضروری ہے، ماضی میں اس ضمن میں غلط پالیسی کے باعث ایک غیرکمپنی کے ساتھ معاہدے میں ہمارا کیس کمزور ہوا، انہوں نے کہا کہ تھرکول پروجیکٹ،دودھر لیڈ زنک اور سیندک پروجیکٹ کے تجربات کو سامنے رکھ کر معدنی شعبہ میں بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعہ مزید منصوبے شروع کئے جائیں گے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد ماہرین معدنیات، معدنی شعبوں کے سرمایہ کاروں، اکیڈیمیا اور تمام اسٹیک ہولڈروں کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کرنا اور بلوچستان کے معدنی شعبہ کی ترقی کے لئے لائحہ عمل مرتب کرنا ہے، یہ امر باعث اطمینان ہے کہ سیمینار کے شرکاء نے انتہائی ذمہ دارانہ رویہ اور سنجیدگی کے ساتھ سیمینار میں شرکت کی اور اس سیمینار سے بھرپور استفادہ کیا

قبل ازیں سیمینار میں شریک مندوبین نے اپنے اپنے مکالے پیش کئے جبکہ سیکریٹری محکمہ معدنیات ومعدنی ترقی زاہد سلیم نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے سیمینار کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی، بعدازاں وزیراعلیٰ نے نمایاں کارکردگی کے حامل افراد میں شیلڈ تقسیم کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں