ضلع پشین ،ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال مریضوں کے علاج معالجے سے قاصر

رپورٹ ۔۔۔۔ارباز شاہ

علاج معالجے کی سہولت کی فراہمی ریاست کے فرائض اور معاشرے کے افراد کابنیادی حق ہے تاہم بلوچستا ن کے دور دراز علاقوں میں سہولیات کی فراہمی نہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے

حکومتی دعوؤ ں کے باوجود آج بھی بلوچستا ن کے اکثرعلاقوں میں صحت کی سہولیات کافقدان ہے کوئٹہ سے 80کلو میٹر کے فاصلے پر واقع

سات لاکھ چھتیس ہزار آبادی پر مشتمل صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین میں صرف ایک ڈسٹرکٹ ھیلتھ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو ) ہسپتال قائم ہے۔جس پر نہ صرف ضلع پشین بلکہ قلعہ عبداللہ کے چند علاقوں کے لوگوں کا انحصار بھی ہے۔

پشین میں حالیہ ایک سروے کے مطابق 75 فیصد کریٹیکل کیسز کو جواب دیکر بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ بھیجا جاتا ہے عموما مریضوں کی موت اسپتال پہنچنے سے پہلے واقع ہوجاتی ہے۔

دسمبر 2018 میں ضلع پشین کے رکن صوبائی اسمبلی ایم پی اے اضغر ترین اور ایم ایس (ڈی ایچ کیو)پشین جبار بنگلزئی کی طرف سے سیکریٹری ھیلتھ حافظ عبدالماجد کوسول ہسپتال پشین میں 6 مشینوں کی فراہمی کیلئے ایک پروپوزل جمع کرایا تھا جو اب تک منظور نہ ہوسکا ۔
ضلع پشین کے واحد ڈسٹرکٹ ھیلتھ ہیڈکوارٹر کے ایمرجنسی میں صرف ایک سرجن ہے جو ریٹائرڈ ڈاکٹر ہے کوکال پر رکھا گیا ہے سٹاف کی عدم موجودگی کے باعث بہت سے سیئرس کیسز کو جواب دیکر کوئٹہ بھیجا جاتا ہے۔

صوبہ بلوچستان ضلع پشین کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مختلف مشینوں کی عدم موجودگی کے باعث پشین کے عوام شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

بلوچستان 24 سے بات کرتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو پشین جبار بنگلزئی کا کہنا تھاکہ”پشین بہت بڑی آبادی پر مشتمل ایک ضلع ہے۔یہاں روزانہ کی

اصغر ترین رکن صوبائی اسمبلی

بنیاد پر سیریئس کیسس آتے ہے جہاں تک ہماری کوشش ہوتی ہیں ہم کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہے مگر پراپر سہولیات نہ ہونے کہ باعث ہمیں

مریضوں کو مجبورا جواب دینا پڑتا ہے۔

اسپتال میں مختلف مشینوں کی عدم موجودگی کے باعث یہاں کے عوامی نمائندہ رکن صوبائی اسمبلی ایم پی اے اضغر ترین اور میں نے سیکریٹری ھیلتھ حافظ عبدالماجد کو مختلف آپریٹنگ مشینوں کی پروپوزل جمع کرایا تھا۔

دسمبر میں جمعہ ہونے والے مشینوں کے حوالے سے پروپوزل پر اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ہمیں مشینوں کی اشد ضرورت ہے اگر مشینیں وقت پر فراہم نہ کی گئی تو ان کے عدم موجودگی کے باعث کئی لوگ اپنی زندگی کی بازی ہار دینگیں”

صحت انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے بروقت علاج نہ ہونے یا ایمرجنسی کا غیر فعال ہونے کی وجہ سے عوام زندگی کی بازی ہار سکتے ہیں۔

پشین کے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں مختلف مشینوں کی عدم موجودگی کے باعث عوام کے مشکلات کے بارے میں پشین پی بی 18 سے منتخب نمائندہ رکن صوبائی اسمبلی ایم پی اے اضغر ترین نے بلوچستان 24کو بتایاکہ کہ”صحت واقعی ایک سنجیدہ معاملہ ہے پشین کے آبادی کو دیکھتے ہوئے ایک مکمل سٹریٹجی تشکیل دینی ہوگی

ساتھ لاکھ چھتیس ہزار آبادی پر مشتمل صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین میں صرف ایک ڈسٹرکٹ ھیلتھ ہیڈکوارٹر کی موجودگی ہے اور یہاں بھی سہولیات کا فقدان ہے

میں بشمول ایم ایس سول ہسپتال پشین جبار بنگلزئی کے سیکریٹری ھیلتھ حافظ عبدالماجد کو سول ہسپتال پشین میں مختلف مشینوں کی عدم موجودگی سے متعلق ایک پروپوزل جمع کرایا تھا کہ ہمیں ان مشینوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے

تاکہ ہمیں یہاں کے عوام کو سہولیات کی فقدان کی وجہ سے جواب دینے کے بجائے ان کا علا ج کرسکیںں ہماری پوری کوشش ہے کی ضلع پشین کو تعلیم اور صحت کے حوالے سے مکمل خود کفیل بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں