سبزل روڈ پر ٹریفک جام سے شہریوں کی زندگی اجیرن

رپورٹ۔۔۔۔۔ سہیل بلوچ

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت دن کے اوقات میں ٹرکوں کے داخلے کا روکنے کیلئے کوئی اقدام نہ ہوسکا ہزار گنجی اور مغربی بائی پاس سے لوڈ ٹرک بلا رکاوٹ قمبرانی روڈ اور سبزل روڈ کے راستے شہر میں داخل ہوتے ہیں جس کے باعث سبزل روڈ رئیسانی روڈ پر گھنٹوں ٹریفک جام ہوجاتی ہے۔

ملی مسلم لیگ کے صوبائی نائب صدر ملک ولی وردگ بلوچستان 24 ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک سب سے بڑا مسئلہ ہے بلخصوص قمبرانی روڈ اور سبزل روڈ کے مین چوراہے پر بہت زیادہ رش ہوتا ہے اور یہاں پر ہر وقت شہریوں کو مسئلہ درپیش ہوتا ہے

دو دن پہلے ٹریفک کی وجہ سے ایک حاملہ خاتون جو ہسپتال بروقت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے دم توڑ گئی تھی ۔

قمبرانی اور سبزل روڈ کی بندش کی وجہ سبزل روڈ کے بڑے گودام ہیں اور ان گوداموں کی وجہ سے بڑی گاڑیاں آتی ہیں جس کی وجہ سے روڈ بند رہتا ہے۔حکومت کو چاہیے وہ ان گوداموں کو شہر سے باہر منتقل کردے

بی این پی کے علاقائی رہنما محمد عباس مینگل نے بلوچستان24 ڈاٹ کام کو بتایا کہ روڈ تنگ ہونے کی وجہ سے قمبرانی روڈ اور سبزل کا جنکشن گھنٹوں بند رہتا ہے ۔

سابقہ حکومت نے دوہزار چودہ میں روڈ کو وسیع کرنے کا جو منصوبہ شروع کیا تھا اور سابقہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے اس کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا تھا لیکن اس کے باوجود اس منصوبے پر کام نہیں ہوسکا

عباس مینگل نے وزیراعلیٰ سے اپیل کرتے ہوئے کہا عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھ اس منصوبے پر جلد از جلد کام شروع کیا جائیں.

ٹریفک اہلکار بھی ٹریفک جام سے پریشان رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عوام ٹریفک قوانین کا خیال نہیں رکھتے

بلوچستان 24ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے ٹریفک اہلکار نے بتایاکہ ایک تو سڑک تنگ ہے اوپر سے عوام ٹریفک قوانین کا خیال نہیں رکھتے جس کی وجہ سے اس روڈ پر ٹریفک جام رہتا ہے.

شہر میں بڑے گاڑیوں کے داخل ہونے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے خود بڑی گاڑیوں کو سبزل روڈ پر آنے کی اجازت دی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں