کوئٹہ کے موت کے کنویں

رپورٹ۔۔۔۔مدثر محمود

کوئٹہ کے مصروف شاہراہ زرغون روڈ کے عین وسط میں واقع مین ہول راہ گیروں کیلئے مسلسل خطرے کی علامت بنی ہوئی ہے۔ کسی خدا ترس انسان نے یہاں درخت کی ٹہنی رکھ کر شہریوں کو کسی حادثے سے بچھانے کیلئے ہول میں رکھ دی ہے

زرغون روڈ سریاب پل سے اترنے والی ٹریفک جس تیزی رفتاری سے زرغون روڈ پراترتی ہے ان کیلئے یہ مین ہول موت کا کنواں ثابت ہوسکتا ہے ۔

متعلقہ حکام گزشتہ کئی ماہ سے زرغون روڈ پر واقع مین ہولز سے غافل ہیں کوئٹہ کی اہم ترین شاہراہ پر راہ گیروں کے تحفظ کیلئے فوری اقدام ناگزیر ہے ۔

سڑک سے روزانہ ہزاروں افراد موٹر سائیکلوں ،گاڑیوں اور سائیکلوں کے ذریعے گزرتے ہیں جن میں وی آئی پی حضرات بھی شامل ہیں

اس چھوٹے سے مسئلے کو حل کرنے کیلئے اقدام نہیں اٹھایا ہے جو شہری انتظامیہ کی غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ ہمارے ہاں کوئی مسئلہ اس وقت تک حل نہ ہونے کی روایت ہے جب تک کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہوجائے اب بھی انتظامیہ کسی حادثے کا انتظار کررہی ہے
.
کوئٹہ کے شہری جمال الدین نے اس بارے میں بلوچستان 24 ڈاٹ کام کوبتایا کہ میں روز اس روڈ سے گزرتا ہو اور اس مین ہول کو کھلا ہوا دیکھتا ہوں لیکن انتطامیہ کا دھیان اج تک اس مسئلے پر نہیں گیا

میں نہیں سمجھتا انتظامیہ کیا کررہی ہے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے یہ ہول کبھی بھی حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔

جمال الدین نے انتطامیہ سے اپیل کی کہ اس ہول کو فوری طور پر بند کردیا جائے تاکہ شہری اس ممکنہ حادثے سے محفوظ رہ سکیں

اپنا تبصرہ بھیجیں