سول اسپتال کی سکیورٹی کا موئثر انتظام کیا گیا ہے ،ایم ایس ڈاکٹر سلیم ابڑو

رپورٹ ۔۔۔ارباز شاہ

پاکستان کئی دہائیوں سے سیکیورٹی خدشات سے متاثر ملکوں میں رہا ہے۔ملک کے بڑے شہر جامع حکمت عملی کی عدم موجودگی کے باعث سیکورٹی رسک سے دوچار ہیں

صوبہ بلوچستان سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے پاکستان کا سب سے متاثرہ صوبہ ہے۔جامع سیکیورٹی سٹریٹجی تشکیل نہ دینے کی وجہ سے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر واقعاتہوتے رہے ہیں۔

آٹھ اگست 2016 کو سنڈیمن سول ہسپتال کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ نے بلوچستان کو باشعور طبقہ وکلاء ٹاپ کلاس سے محروم ہوگئی جس نے سیکورٹیپالیسی پر کئی سوالات اٹھا دئیے

آٹھ اگست 2016 میں پیش آنے والے واقعہ کے بعد بلوچستان محکمہ داخلہ کی جانب سے بلوچستان کے مختلف ہسپتالوں اور متعدد آسان ہدف کے مقامات پر سیکیورٹی اہلکار تعینات کردئے گئے۔جس میں متاثرہ سول ہسپتال کوئٹہ میں سب سے زیادہ 70 کے قریب نفری تعینات کی گئی۔

آٹھ اگست 2016 کے واقعہ کے بعد تعینات ہونے والے سیکیورٹی اہلکار اب واپس بلا لئے گئے ہیں۔ جس کے بعد سے ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات منڈلا رہے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کو واپس بلانے اور سیکیورٹی خدشات کے حوالے سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس)سنڈیمن ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر سلیم ابڑو نے بلوچستان 24 سے کوبتایا”آٹھ اگست کے واقعہ کے بعد سول ہسپتال کوئٹہ میں 70 سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔چند ماہ گزرنے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سنڈیمن صوبائی اسپتال سلیم ابڑو

غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا اور ہسپتال میں بغیر اسلحہ کے سکیورٹی دینے لگے

سیکیورٹی فورسز کی واپسی کے حوالے سے ایم ایس سول ڈاکٹر سلیم ابڑو کا کہنا تھا کہ” سیکیورٹی اہلکاروں کے غیر ذمہ دارانا رویہ کو دیکھتے ہوئے مجھے لگا کہ سیکیورٹی فورسز کو واپس بھیجنا چاہیے۔چونکہ سیکیورٹی اہلکار ہسپتال کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے”۔

سیکورٹی فورسز کی واپسی سے متعلق ایم ایس سول سلیم ابڑو کا بلوچستان 24 سے بات کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ”سول ہسپتال میں اب انکی اپنی فورسز تعینات ہیں۔جو ہسپتال کو 24 گھنٹے تحفظ فراہم کرتے ہیں”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں