سرکاری اداروں کی خط و کتابت کیلئے محکمہ ڈاک کا استعمال کرنے کافیصلہ

ویب ڈیسک

وفاقی کابینہ نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی،پاکستان کی پہلی عالمی معیار کی میڈیا یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دیدی

کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام سرکاری ادارے خط و کتابت کے لئے محکمہ ڈاک کو استعمال کرینگے،وزیراعظم عمران خان نے ہدایات دی ہیں کہ بجلی اور گیس کے بڑے چوروں کو بے نقاب کرنے کے لئے کارروائیاں تیز کی جائیں ،جرمن حکومت کے 94ملین یورو کے فنڈزسے فیصل آباد میں پینے کے صاف پانی کا منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے امور پر کام کرینگے

آئی ایم ایف سے معاہدہ بہت قریب پہنچ چکا ہے ،جلد آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کا اجراء کیا جائے گا ،وزیر خزانہ اسد عمر کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے یہ پوائنٹ کابینہ نے زیر بحث نہیں لایا،جیسے ہی وزیر خزانہ واپس آئیں گے اس سکیم پر فیصلہ کیا جائے گا

انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں بجلی اور گیس کے امور پر غور کیا گیا ہے ،کابینہ کو بتایا گیا کہ 43فیصد یو ایس جی کی وجہ گیس چوری ہے ،گیس چوری میں بڑے بڑے چور پکڑے گئے ہیں۔

سوئی گیس محکمہ کے حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ آئندہ تین سالوں میں یو ایس جی 7.2فیصد پر لے آئیں گے اس سے 3ارب کی گیس چوری کم ہوگی۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کرک میں 93فیصد جبکہ بلوچستان میں 48فیصد گیس کے استمعال کے باوجود بلنگ نہیں ہورہی، اسی طرح لاہور اور اسلام آباد میں بھی معاملات نظر آئے ہیں ،مسلم لیگ ن کے شیخ روحیل اصغر کا بل 10ہزار آرہا تھا جو حقیقت کے برعکس تھا،

اب ٹھیک کر کے یہ بل ایک کروڑ 10ہزار ہوگیا ہے، پیپلز پارٹی کی حنا ربانی کھر دو سالوں سے بجلی چوری کے معاملے پر حکم امتناعی پر چل رہی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے وزیر بجلی عمرایوب ،وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کو ہدایات دی ہیں کہ وہ بڑے بڑے بجلی اور گیس چوروں کو پکڑیں ،اس وقت بھی 40ارب کے لائن لاسز ہیں ،بجلی چوری پر بہت سے مقدمات درج کیے گئے، بجلی کے محکمے کے 500ملازمین بجلی چوری کے کیسزمیں ملوث ہیں ،

وزیراعظم نے بجلی اور گیس چوروں کے خلاف کارروائی مزید تیز کرنے کی ہدایات دیں۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے قیام کی منظوری دیدی ہے، پاکستان ہاؤسنگ فاؤنڈیشن ایک سال میں ایک لاکھ 35ہزار اپارٹمنٹس تیار کریگی،17 اپریل کو وزیراعظم عمران خان نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے کا افتتاح کرینگے، اس منصوبے کے تحت اسلام آباد میں 25ہزار اپارٹمنٹس ، بلوچستان میں 1لاکھ 10ہزار اپارٹمنٹس کے علاوہ گوادر میں ماہی گیروں کو چھت کی فراہمی کے لئے گوادر میں نئی بستی قائم کرینگے۔

وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے پاکستان اور یو اے ای کے درمیان فنانشل انٹیلی جنس ایگریمنٹ کی منظوری دیدی ہے ،اس معاہدے کے بعد یو اے ای میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کے حوالے سے جلد خوشخبری ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے عالمی معیار کی پہلی پاکستان میڈیا یونیورسٹی کے قیام کی بھی منظوری دی ہے ،اس یونیورسٹی کے قیام کا بنیادی مقصد میڈیا گریجویٹس اور میڈیا انڈسٹری سے منسلک افراد کو ٹیکنالوجی سے آگاہی دلانا ہے ،اس وقت میڈیا میں جو مشکلات ہیں اس کی بڑی وجہ ہے کہ ہمارے میڈیا سے منسلک لوگوں کو ٹیکنالوجی سے آگاہی نہیں ہے۔

پی ٹی وی ،ریڈیو پاکستان اور انفارمیشن سروسز اکیڈمی کو ضم کر کے میڈیا یونیورسٹی قائم کی جائے گی ،اس یونیورسٹی میں پرفارمنگ آرٹ کے علاوہ انڈر گریجویٹس کو ہر طرح کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے تربیت فراہم کی جائے گی، اس ضمن میں چائنیز ،جرمن اور دیگر ممالک کی آئی ٹی کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے ،امریکن کمپنی سے بھی بات کی جائے گی جو بہتر ہوئی اس کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ایم ڈی پی ٹی وی کے عہدے کے لئے 42درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن پر غور کر رہے ہیں، جلد ایم ڈی پی ٹی وی کی تقرری ہو جائے گی جبکہ چیئرمین پی ٹی وی اور پی ٹی وی بورڈ کی تشکیل کا معاملہ سات دن کے لئے موخر کر دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سکینڈل سامنے آ رہے ہیں اور نیب کی کارروائیاں تیز ہورہی ہیں، یہ وہی صورتحال بن چکی ہے جب حدیبیہ پیپر والا معاملہ شروع ہوا تھا،حقیقت یہ ہے کہ یہ 1947تا 2008تک 60ارب ڈالر کے بیرونی قرض تھے اور اب بیرونی قرض 97 ارب ڈالر ہوچکے ہیں،

اس تناظر میں خواجہ آصف ،سعد رفیق،احسن اقبال کے کیسز دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بڑی کرپشن میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے حوالے سے نئے انکشافات کررہا ہے ،آصف علی زرداری ،نواز شریف اور شہباز شریف کی کرپشن کا طریقہ کار ایک جیسا ہی ہے۔

93میں شروع ہونے والے حدیبیبہ پیپر مل کرپشن کے طریقہ کار پر آج بھی کام ہورہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم کے ورکنگ پیپر کی تیاری میں وزیر خزانہ اسد عمر ،مشیر تجارت رزاق داؤد ،وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات خسرو بختیار ،وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر کی محنت شامل ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں