بلوچستان ،ایکسی لینس ایوارڈ ،نمایاں کارکردگی دکھانے والے شعبے نظر انداز

رپورٹ۔۔۔۔ عبدالکریم

بلوچستان ایکسیلینس ایوارڈ جو کئی سالوں سے مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو دیا جاتا ہے

امسال بھی حکومت بلوچستان ان شعبوں کاا علان کیا ہے جن میں بہتر کارکردگی دکھانے والے افراد کو ایوارڈ سے نوازا جائیگا

ان شعبوں میں سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم و تدریس، فن و ثقافت، امن و قومی اھنگی، صحت عامہ، سماجی خدمات، زراعت اور دستکاری کے شعبے شامل ہیں

لیکن ان میں صحافت، بیوروکریسی اور این جی او اور دیگر بہت سے شعبہ جاتجن کے صوبے کیلئے خدمات ہیں انہیں شامل نہیں کیا گی

اس حوالے سے بلوچستان کے سنیئر صحافی سیدعلی شاہ نے بلوچستان 24 ڈاٹ کام کو بتایا کہ ” بلوچستان کے صحافیوں نے بلوچستان کے اہم مسائل کو ہمیشہ اجاگر کیا ہے چاہیے وہ دہشت گردی کا مسئلہ ہو یا کوء اور مسئلہ ہو بلوچستان کے صحافیوں نے ہروقت ہر اول دستے کا کردار ادا کیا ہے ”

سید علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے حکومت نے تمام شعبوں میں خدمات دینے والے شخصیات کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے، تو یہاں یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے حقوق کیلئے ،بلوچستان کے لوگوں کیلئے، بلوچستان میں جمہوریت کیلئے اور بلوچستان میں سیاسی اداروں کی استحکام کیلئے جن صحافیوں نے قربانیاں دی ہںیا جدوجہد کی ہے انھیں ایوارڈ دینا چاہیے.

صحافت کے ساتھ ساتھ دیگر بھی بہت ایسے شعبے ہے جن میں سماجی تنظمیں اور این جی او شامل ہے جن کا بلوچستان کیلئے گراں قدر خدمات ہے مثال کے طور پر بلوچستان بوائے سکاؤٹ ، گرلز گائیڈ، سول ڈیفنس، منشیات کی روک تھام اور ری ایبلیٹشن کیلئے کام کرنے والے ادارے شامل ہے

اگر ہم بات کرے بلوچستان بوائے سکاؤٹ کی تو وہ کہی عرصے سے صوبے میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ان کے رضاکار ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، اور اسی طرح بلوچستان بوائے سکاؤٹ کا تعلیم اور فنی تعلیم میں ان کی بہتر کارکردگی رہی ہے اور وہ پائیدار ترقی کی مقاصد کیلئے بہترین کام کررہے ہیں

جن کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے اسی طرح مختلف این جی اوز ہے جو بہتر کام کررہے ہیں اور ان کے کیلئے بھی بلوچستان ایکسلینس ایوارڈ میں کوئی کیٹگری نہیں رکھی گئی ہے.

حاجی بہرام لہڑی جو کافی عرصے مختلف این جی اوز سے وابستہ ہے اور سماجی رہنما ہے بلوچستان24ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا

بلوچستان کے غیر سرکاری تنظیمیں کہی دہائیوں سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، خواتین و بچوں، اقلیتوں و خواجہ سرا ہوں، مہاجرین و پی ڈبلیو ڈی، سب کیلئے غیر امتیازی طور پر کام کر رہے ہیں۔

حکومت کی طرف سے ان کیلئے کوئی حوصلہ افزائی نہیں، جس کی وجہ سے ان تنظیموں سے جڑے ہوئے لوگ مایوسی کے شکار ہے۔

بلوچستان ایکسلنس ایوارڈ ایک اچھا پلیٹ فارم ہے، شرط یہ ہے کہ اس کو شفاف اور غیر جانبدار رکھا جائے اور معاشرے کے ان لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے، جو واقعی بلوچستان کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں

فوکل پرسن بلوچستان ایکسیلینس ایوارڈ2019محکمہ سوشل ویلفئیر شیراحمد بلوچ نے بلوچستان24ڈاٹ کام کو بتایا کہ’’ جب ہم بلوچستان کیلئے خدمات کے دائرہ کار کو دیکھتے ہے تو یہ ایک وسیع فیلڈ ہے

’’ صحافت کی کیٹگری بلوچستان ایکسیلینس ایوارڈ میں نہ رکھنے کی وجہ ہے کہ صحافت صحافیوں کا اپنا پیشہ ہے اور اسی طرح بیوروکریسی کو بھی اسی لیے نہیں رکھا گیا ہے کیونکہ وہ سرکاری ملازم ہیں اور وہ اپنی سرکاری ذمہ داریاں نبھارہے ہیں

این جی اوز کیلئے ہم نے رضاکارانہ خدمات کیلئے سماجی خدمات کے مد میں کیٹگری رکھی ہے اور یہ فیصلہ ایک فرد کا فیصلہ نہیں ہے یہ کور کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ کونسے شعبوں مین خدمات سرانجام دینے والوں کو ایوارڈ دینا ہے، اس کمیٹی میں وزیراعلیٰ، سدرن کمانڈ اور دیگر نمائندے شامل ہیں.

دوسری طرف فنکار بھی ناخوش دیکھائی دیے رہے ہیں ناصر ساحل جو ایک تھیٹر فنکار ہیں ان کا کہنا ہے کہ ” بلوچستان ایکسیلینس ایوارڈ سے من پسند لوگوں کو نوازا جاتا ہے، بلوچستان کیلئے جن فنکاروں نے بہتر خدمات سرانجام دیئے ہیں اور صوبے کا نام روشن کیا ہے انھیں فراموش کیا جاتا ہے جس سے فنکاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں