نوشکی میں دو ماہ قبل سیلاب کے باعث گرنے والے کھمبے نہ لگ سکے

رپورٹ ۔۔۔۔برکت زیب سمالانی
دو ماہ قبل بارشوں کے بعد نوشکی میں سیلابی پانی آنے سے نہ صرف گھروں کو نقصان پہنچا بلکہ بجلی کے پول بھی گر گئے جس سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جو دو ماہ کے گزرنے کے باوجود بحال نہ ہوسکی

یونین کونسل ڈاک درزی چاہ کے 47 سالہ سماجی خدمت گار میر محمد بخش مینگل کا کہنا ہے یوسی ڈاک اور یوسی انام بوستان کے سرحدی علاقوں کا بجلی

میر محمد بخش مینگل

58 دن گزرنے کے باوجود تاحال منقطع ہے۔

گزشتہ مہینوں سیلاب کے آمد کے باعث کلی ناصر خان علاقے میں بجلی کے کھمبے گرنے سے تاحال بجلی کی ترسیل بند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلابی پانی سے کلی ناصر خان میں چار کھمبے، بیدی اور درزی چاہ علاقے کے درمیان 3 کھمبے اور کلی درزی چاہ سمیت آس پاس کے ایریاں میں 4 کھمبے گرگئے ہیں اور بعض ٹیٹرھے ہوگئے

تاحال۔ بجلی کھمبوں کی مرمت نہ ہوسکی یونین کونسل ڈاک انام بوستان کے مکینوں کو بجلی نہ ہونے سے سخت گرمی میں مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے

۔ دوسری جانب پانی کی شدید قلت اور بحران پیدا ہوا پے۔لوگ اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے دوردراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ کاروبارے زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے،

میر محمد بخش مینگل کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں اور واپڈا کے ذمہ داروں کی جانب سے بروقت اقدامات نہ اٹھانا قابل افسوس عمل ہے۔ اگر سٹی ایریا میں تین دن بجلی نہ ہوتو سب شور مچاتے ہیں۔ مگر دور دراز علاقے ڈاک انام بوستان کے درجنوں دیہات تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں

دوماہ مکمل ہونے کو ہے مگر تاحال بجلی ترسیل کے منقطع ہونے کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہاہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ قریب تر ہونے کے باوجود ذمہ داروں کی جانب سے بجلی بحالی کے لئیے اقدامات نہ کرانا افسوس کا عمل ہے۔

انہوں نے نے مطالبہ کیا کہ آل پارٹیز اور عوامی نمائندے فوری بجلی بندش کا نوٹس لے لیں۔ 58دن گزرنے کے باوجود بجلی کا بحال نہ ہونا خود ایک سوالیہ نشان ہے۔۔

بی این پی کے سی سی ممبر ایم پی اے نوشکی میر بابو محمد رحیم مینگل نے واپڈا حکام کی نوشکی میں عوامی مساحل کے حل میں لعت و لعل پر مبنی پالیسیوں کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ھوے کہا کہ نوشکی اس وقت بجلی کا بحران ھے سینکڑوں کے حساب سے ٹرانسفارمرز کئی مہینوں سے جلنے کے

بابو محمد رحیم مینگل

بعد تا حال ان کیبحالی کے حوالے سے عوام کی تمام تر امیدیں دم توڑتی جارہی ہیں

ڈاک انام بوستان میں گزشتہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے فراہمی کی معطلی کو تین مہینہ ھو رہا ھے لیکن اس سلسلے میں کوہی پیشرفت ھوتی نظر نہی آرہی ھے بجلی کی فراہمی میں بہتری لانے کے بجاے احمدوال اور دیگر علاقوں کی طے شدہ اوقات میں کمی کر دی گئی ھے

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کیسکو بلوچستان کے چیف سمیت اعلی حکام سے بارہا ملاقاتیں ھوہی ھیں اور انھوں نے متعدد بار ان مسائل کے حل کی یقین دہانی اور وعدے کیے گئے لیکن اس کے باوجود واپڈا حکام عوام دشمن پالیسیوں پر گامزن ھے

انھوں نے کہا کہ اب عوام کی صبر کا پہمانہ لبریز ھوچکا ھے اور بی این پی عوام کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چوڑے گی اور عوامی نمائندہ کی حیثیت سے عوامی حقوق کی حصول کے ہر فورم پر آواز بلند کرتا رہونگا

کیسکو نوشکی کے ایکسیئن حاجی عبدالقیوم بنگلزئی کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے انام بوستان کے علاقے کلی ناصر خان سمیت مکمل دو یونین

عبدالقیوم بنگلزئی

کونسل میں 15 کے قریب کھمبے متاثر ہوئے تھے۔ تمام راستے بند تھے۔

شروع میں راستہ ملنے پر 6 کھمبوں کی مرمت کاکام مکمل کیا گیا ہے۔ اور سیلاب کے باعث راستے بند تھے اور مرمت کاکام بھی متاثر ہوا۔ کھمبوں کے دوبارہ انسٹالیشن کا کام کنسٹریکشن ڈویڑن کو دیاگیا ہے جن پر کام شروع کردیا گیاہے ایک ہفتے کے اندر اندر انام بوستان ڈاک کا بجلی بحال ہوجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں