کرکٹ کا کھیل ، خواتین کھلاڑی حکومتی وعدوں کی تکمیل کے منتظر

کرکٹ کا کھیل ، خواتین کھلاڑی حکومتی وعدوں کے تکمیل کے منتظر

رپورٹ۔ مہک شاہد

بلوچستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، لیکن یہاں خواتین کو ہمیشہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ بلوچستان میں گراو¿نڈز اور اسٹیڈیم کی کمی ہے۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی خواتین اپنے ٹیلنٹ کو ضائع کردیتی ہیں اور اسی وجہ سے بلوچستان سے بہت کم نام آگے جا پاتے ہیں

ابھی حال ہی میں سردار بہاد خان وومن یونیورسٹی میں ساتویں آل بلوچستان انٹر خواتین جوڈو کراٹے چیمپین شپ اور پانچویں تیر اندازی انٹر یونیورسٹی چیمپین شپ کا انعقاد ہوا جہاں ملک بھر سے خواتین کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ اختتام کے موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کھیلوں سمیت دیگر شبعہ ہائے زندگی میں خواتین کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت خواتین کے لیے کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے بھرپور اقدامات کررہی ہے۔

اب دیکھنا ہے کہ حکومت نے جو خواتین کے لیے کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں وہ کیا پورے ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں خواتین کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ مسائل حل ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے ہیں۔ بلوچستان وومن کرکٹ ٹیم کی کیپٹن امن بلوچ نے بلوچستان میں کھلاڑیوں کی مشکلات کے حوالے سے بلوچستان24 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ

” بلوچستان میں خواتین کو ہمیشہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، مشکلات ایک وقت میں کم ہوئی تھی اور وہ میرضیا لانگو کا دور تھا جب مشکلات کم ہوئی تھی۔ میر ضیا اور مالک بلوچ جب تھے تو اس وقت فیسٹول ہوا کرتے تھے لیکن پھر جب ان کی حکومت ہٹ گئی اس کے بعد سے اب تک کوئی فیسٹول نہیں ہوا ہے اور اس وقت کھلاڑیوں کو سپورٹ بھی بہت ملتی تھی ہر طرح کی سہولت حاصل تھی“

امن بلوچ کو امید ہے کہ اب خواتین کے مسئلے حل ہوں گے ان کا بلوچستان24 سے بات کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ” ہمیں امید ہے جس طرح سے میر ضیا لانگو کے بھائی میر خالد کے دور میں فیسٹول ہوا کرتے تھے آنے والے وقت میں بھی اسی طرح فیسٹول ہوں گے اور جس طرح پہلے ہمیں ہر طرح کی سہولت ملتی تھی آنے والے وقت میں خواتین کے لیے کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی“

بلوچستان میں کھیلوں کے حوالے سے بہت ٹینلٹ موجود ہے تاہم سہولیات کی عدم فراہمی اور مواقع نہ ہونے کے باعث کھلاڑی مایوس ہورہے ہیں امن بلوچ و دیگر اس جیسی کھلاڑیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت خواتین کرکٹ کے کھلاڑیوں کیلئے سہولیات فراہم کرے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں