نمود نمائش کے بغیر غریبوں کی مد د کا طریقہ

رپورٹ۔۔۔۔۔۔غلام رسول قمبر

ہر معاشرے میں غریب اور امیر افراد ہوتے ہیں ترقیاتی یافتہ ممالک میں غریبوں کے مدد کے مختلف طریقے رائج ہیں تاہم ہمارے معاشرے میں کوئی سہل طریقہ نہ ہونے سے غریب لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں

تاہم آج کل ایک طریقہ مقبول ہورہاہے جس میں آپ کسی کو بتائے بغیر اس کی مدد کرسکتے ہیں یہ سلسلہ چائنا سے شروع ہوا جہاں لوگوں نے اپنی ضروریات میں زائد چیزوں کو ایک جگہ رکھ دیتے جس کو غریب افراد اٹھاکر اپنی ضرورت پوری کرلیتے

اس کے بعد یہ سلسلہ مختلف ممالک جن میں ایران اور دیگر ممالک شامل ہیں چل نکلا اور اسی طرح لوگوں کی مدد شروع ہوگئی

چائنا میں اپنا گھریلو اضافی سامان مستحق لوگوں تک پہنچانے کے لئے کچھ لوگوں نے دیوار مہربانی کے نام سے ایک مھم شروع کی جو دیکھتے ہی دیکھتے مقبول ہو گئی

لوگ اپنے گھر سے کپڑے جوتے، کھلونے اور دیگر استعمال کی چیزیں مخصوص دیوار پر ٹانگ دیتے، ضرورت مند اپنی اپنی ضرورت کی چیزیں اس دیوار سے اٹھا لے جاتے ہیں

دیوار مہربانی قائم کرنے والے لوگوں گا خیال ہے کے اس طریقے سے ضرورت مند لوگوں کا عزت نفس مجروح نہیں ہوتا.

اس روایت نے پاکستان کا رخ کیا. اسلام آباد اور کراچی کے لوگوں کی جانب سے بھی اسی طرح کی دیواریں قائم کی گئیں
اسلام آباد میں اس دیوار کا نام “حق حقدار تک پہنچے” رکھا گیا ہے

اپ اس قسم کی دیواریں کوئٹہ میں بھی قائم کی گئی ہے

سوشل ایکٹوسٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما درچین ظھیر مری نے کوئٹہ میں اس کام کی شروعات کردی ہے

دیوار مہربانی قائم کرنے والی درچین ظھیر مری کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ دیوار اسلام آباد میں دیکھی اور وہ اس سے بہت متاثر ہوئیں.

انہوں نے پہلے مرحلے میں کوئٹہ کے سریاب روڈ، سیٹلائٹ ٹاؤن اور جوائینٹ روڈ پر یہ دیواریں قائم کر کے ضرورت کی اشیا وہاں ٹانگ دی ہیں

درچین ظھیر مری کا مزید کہنا ہے کے انہوں نے اس کام کا آغاز کردیا ہے کوئٹہ کے شھری ان کا اس کام میں ساتھ دیں. اپنے گھروں سے اضافی سامان ان دیواروں پر رکھیں تاکہ ضرورتمندوں کی مدد کی جاسکے.

اس کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو لوگوں سے مانگ نہیں سکتے اور سفید پوش کہلاتے ہیں لیکن ضرورت مند ہوتے ہیں

ایسے لوگوں کی مدد کا بہتر طریقہ دیوار مہربانی ہے جو کسی پر احسان نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں