ٹھنڈا زیارت اور….. سفرنامہ( دوسرا اور آخری حصہ)

تحریر۔۔۔ عبدالکریم

سورج آسماں پر شفق کی سرمئی رنگ پھیلا چکا تھا ہم زیارت کے خوبصورت درختوں سے بھرے پہاڑوں میں گھرے بازار میں کوئٹہ سے ایک سو چوبیس کلومیٹر کا سفر طے کرکے کھڑے تھے

زیارت کے بازار میں گہماگہمی کم تھی سیاح بھی ہمیں بازار میں کہی نظر نہیں آرہے تھے وجہ رمضان المبارک کا قریب ہونا تھا.

سب سے اہم بات ملک کے دیگر شہروں کی نسبت زیارت کے بازار کے اکثردکانوں کے بورڈز پشتو زبان میں لکھے ہوتے ہیں

ہمارے دوست جو ہمارے ساتھ تھے ان میں عزت اور رزاق کو پشتو پڑھنے میں دقت پیش آرہی تھی وہ دونوں تصحیح کیلئے مجھ سے اور ہمارے دوسرے ہمسفر دوست عبدلرازق ناصر سے رجوع کرتے تھے رات کی سیاہی زیارت کو اپنے آغوش میں لیے چکی تھی اب ہمیں رات کہاں گزارنی ہے اس کیلئے دوستوں نے فون گمھایا بالاخر ایک گیسٹ ہاو¿س میں رات گزارنے کے فیصلے پر ہم سب متفق ہوگئے،

خوراکی اجناس چونکہ ہم کوئٹہ سے اپنے ساتھ لیکر آئے تھے عزت خان نے جس نے ایک بہترین ک±ک کا کردار ادا کرتے ہوئے شکم سیری کیلئے ایک خوش ذائقہ کڑائی بنا کر دئ.

صبح دس بجے کے قریب ہماری آنکھ کھلی تو ہم نے گیسٹ ہاو¿س کے رکھوالے صاحبزادہ عبداللّٰہ جان کو بھی گیسٹ ہاو¿س میں پایا ناشتے پر ان سے زیارت کے بارے میں بات چل نکلی

تو ان کا کہنا تھا کہ زیارت کےزیادہ تر لوگ سردیوں میں ہرنائی چلے جاتے ہیں اور گرمیوں میں واپس آجاتے ہیں

میں نے عبداللّٰہ جان سے پوچھا کہ لوگ صنوبر کے درخت بے دریغ کاٹ رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ،

وہ گویا ہوا” صنوبر جس کو پشتو میں اوبشتہ اور انگریز میں جونیپر کہتے ہیں اس کے کاٹنے کے مختلف وجوہات ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ لوگ اپنی زمینوں کو آباد کررہے ہیں وہ سیب اور چہری کے درخت لگا رہے ہیں اور دوسری بڑی وجہ زیارت میں چونکہ شہر کی حدتک تو گیس ہے لیکن دیگر علاقوں میں نہیں ہے تو زیادہ تر لوگ ان درختوں کوبطور ایندھن استعمال کرنے کیلئے کاٹتے ہیں

تیسری وجہ زیارت میں آنے والے سیاح بھی ان درختوں کو ایندھن کے استعمال کیلئے کاٹتے ہیں خاص کر عید کے دونوں میں بڑی تعداد میں سیاح زیارت کا رخ کرتے ہیں اور اکثر سیاح زیارت کے پہاڑوں میں پڑاو¿ ڈالتے ہیں تو اس دوران وہ صنوبر کے درختوں کو کاٹتے ہیں

میں نے عبداللّٰہ جان کے سامنے پھر سوال رکھا کہ کیا محکمہ جنگلات جب لوگ درخت کاٹتے ہیں تو وہ کوئی کاروائی نہیں کرتے درخت کاٹنے والوں کے خلاف عبداللّٰہ جان نے پہلے تو محکمہ جنگلات کا قانون بنا دیا کہا کہ یہ قانون ہے کہ “جب آپ ایک درخت کو کاٹوں گے تو اس کے جگہ دوسرا درخت لگانا لازمی ہے”

پھر وہ کہنے لگا جنگلات والے بھی تو یہی کے لوگ ہیں تو وہ اپنے لوگوں کے خلاف کیا کاروائی کریں گئے

میں نے پھر سوال داغا صنوبر کے جنگلات تو اس ملک، صوبے اور خاص کر زیارت کا سرمایہ ہے تو لوگ کیوں کاٹتے ہیں اس کی حفاظت کیوں نہیں کرتے .

اس بار تو عبداللّٰہ جان نے بڑا انکشاف کردیا وہ کہنے لگا کہ صنوبر کے درخت زیارت کیلئے نقصان دہ ہے یہ بڑی مقدار میں کاربن ڈائی اکسائیڈ خارج کرتا ہے جس کی وجہ زیارت کے اکثر لوگوں کی رنگت سیاہ ہے اور دوسری بات ان درختوں نے زیارت کا بڑا علاقہ گھیرا ہوا ہے جس پر کاشت کاری اور باغبانی ممکن نہیں ہے.

صبح کی شکم سیری ہوچکی تھی عبداللّٰہ جان سے زیارت کے بارے میں سیرحاصل گفتگو بھی ہوئی آخر میں عبداللّٰہ جان نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر میری مصروفیات نہیں ہوتی تو میں آپ لوگوں کو سارا زیارت کی سیر کروالیتا،

ہم لوگوں نے شکریہ اداکرتے ہوئے ان سے اجازت لی اور آخر میں جاتے ہوئے انہوں ہم سنڈیمن تنگی جانے کا مشورہ دیا اور کہا باب زیارت کے نزدیک سے سنڈیمن تنگی کو راستہ نکلتا ہے، رسمِ رخصت ادا کرنے کے بعد ہم سب نے عزت کو گاڑی سنڈیمن تنگی لے جانے کو کہا

باب زیارت کے قریب پہنچ کر عزت نے گاڑی دائیں طرف سنڈیمن تنگی کے طرف موڑ دیا ، اب بل کھاتی ہوئی سڑک ہماری منتظر تھی ان بل کھاتی سڑک پر جگہ جگہ رک کر ہم نے تصاویر بنائے اور زیارت کے خوبصورت مناظر کو کیمرے میں قید کرلیا

سنڈیمن تنگی جاتے ہوئے چونکہ چڑھائی تھی اس چڑھائی سے نیچے کا منظر بڑا دلفریب نظر آرہا تھا دس منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد ہم سنڈیمن تنگی پہنچ چکے تھے،

سنڈیمن تنگی اونچے پہاڑوں میں گھیرا ایک تنگ درہ تھا حکومت نے اس درے کو دیکھنے کیلئے سیاحوں کیلئے آہنی سیڑھیان بنائی تھی جس پر چل کر ہم نے اس درے کی سیر کی کچھ وقت گزارنے کے بعد ہم وہاں سے نکل گئے اور “کواس “سے آگے پہاڑوں میں بہتے نیلگوں پانی کے کنارے بیٹھ کر کھانے کا پروگرام بنالیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں