نوشکی،کلی درزی چاہ ڈاک کے مکینوں کا پیمانہ صبر لبریز

رپورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ برکت زیب سمالانی

نوشکی کے سرحدی علاقہ درزی چاہ ڈاک کے عوام آج بھی بنیادی مسائل کی کمی کاشکار ہیں اور روزمرہ کے ضروریات کیلئے سخت محنت و مشقت کرنے پر مجبور ہیں

علاقے میں پانی کی قلت کا مسئلہ کئی دہائیوں سے حل طلب ہے جسے آج تک کسی نے حل کرنے کی زحمت نہیں کی

علاقے کے مکین اکیسویں صدی جیسے دور میں پانی کی نعمت اور سہولت سے محروم ہیں، پورا علاقہ کربلا کا منظر پیش کررہا ہے

لوگ پانی کے بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں کلی کے مکین خواتین بچے، نوجوان اور بزرگ کئی سالوں سے اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے سے دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔

رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں پانی تین کلومیٹر کے فاصلے پر جانوروں کے ذریعے سے لایا جارہاہے،

کلی درزی چاہ ڈاک کے نوجوانوں نے حکام سے پانی کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے،

کئی دہائیوں سے کلی کے مکین جانوروں کے زریعے پیدل پانی لانے پر مجبور پیں۔ مکینوں نے پانی کا مسئلہ حل نہ کرنے کی میں احتجاج کی دھمکی دی ہے،

کلی درزی چاہ کے مکین حافظ نذیر مینگل اور میر محمد بخش مینگل نے حکام بالا سے درزی چاہ کے پانی کا مسئلہ فوری حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ کہ کلی کے اندر پانی کے کنویں موجود ہیں انہیں سولر کے زریعے پانی فراہمی کا مسئلہ حل کیا جائے،

درزی چاہ کے عوام کلی سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر جانوروں کے زریعے پانی لانے پر مجبور ہوچکے ہیں متعلقہ محکمہ اور نوشکی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ درزی چاہ کے پانی کا مسئلہ اتوار تک حل کیا جائے

مطالبہ منظور نہ ہونے پر درزی چاہ کے عوام سڑکوں پر نکل کر نوشکی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور پی ایچ ای آفس سمیت ڈی سی آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا دینگے

اپنا تبصرہ بھیجیں