حج کوٹہ پالیسی اور بلوچستان کے ٹور آپریٹرز ،کچھ حقائق

 عادل بلوچ

بلوچستان کو ہمیشہ اسکے بنیادی حق اور حقوق سے محروم رکھا گیا ہے بلوچستان کی بد حالی اور پسماندگی ودیگر مسائل ختم کرنے کے بجائے اسے بڑھا نے کی کوشش کی جارہی ہے بلوچستان کے لوگوں نے ہمیشہ ہر فورم پر آواز بلند کی ہے

لیکن اس پر آج تک کسی نے کان نہیں دہرا اگر کسی نے غور سے سنا پھر بھی کچھ نہیں ہوا اور مسائل جوں کے توں ہیں

جس طرح تعلیم ،صحت،آبنوشی ذرائع آمدورفت دیگر ترقیاتی اور اجتماعی کاموں میں بلوچستان کو پیچھے دھکیلا گیا نیز اسی طرح حج کوٹے کے معاملے پر بھی بلوچستان کے حج کمپنیوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسی سلوک کیا جارہا ہے

افسوس اس امر کا ہے بلوچستان کو حج کوٹہ سندھ ،پنجاب کے میرٹ لسٹ میں لاکر دی جاتی ہے جس میں کم ازکم 2500 کمپنیاں ہےں

گزشتہ سال ایک پرائیویٹ ادارے آر ایس ایم کو ٹھیکہ دیا گیا کہ تمام کمپنی کے نمبر ز اور گریڈنگ بنائی جائے کمپنی نے تمام ڈاکومنٹس اور دفتر تک چیک کیے اور نمبر بنائے ۔ آر ایس ایم ادارے نے کچھ یوں سروے کیا لاھور کراچی کے تمام عمرے کی سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں کو پہلے نمبر دے کر لسٹ میں ڈال دیا

اس حساب سے بلوچستان کے کمپنیاں پانچ سو نمبر کے بعد شروع ہوتی ہیں گزشتہ چار سالوں سے جو کوٹہ پرائیویٹ ٹورز کمپنیوں کو مل رہا ہے اس میں بلوچستان کا حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اب چونکہ امسال 11400نیا کوٹہ آیا ہے اس میں سندھ کراچی کے 65،پنجاب کے 90،کے پی کے 45،اسلام آباد کے15،آزاد کشمیر کے 2،اور بلوچستان کے صرف تین کمپنیوں کو کوٹہ الاٹ کیا گیا

بلوچستان کے پرائیویٹ حج ٹورز آپریٹرز کا کہنا ہے وفاقی حکومت کو چایئے اگر انصاف اور میرٹ کے ذریعے کوٹہ الاٹ کرنا ہے تو ہر صوبے کو الگ کوٹہ دیا جائے اور صوبے کو پھر ڈویثرن سطح پر تقسیم کیا جائے اب جو کمپنی میرٹ کے مطابق اپنے صوبے اور ڈویثرن میں آجاتا ہے اسے کوٹہ الاٹ کیا جائے

تاکہ ہر ڈویثرن سے کمپنی میرٹ لسٹ پر آئے تو اسے کوٹہ مل جائے اور وہ اپنے علاقے کے لوگوں مناسک حج پر لے جا سکے

اب چونکہ ایسی کمپنییاں بھی ہےں جو کئی سالوں سے انرولمنٹ پر ہیں جو کوٹے کے انتظار میں بیٹھے ہیں انکو اس طریقہ کار کے مطابق سو سال تک کوٹہ ملنے کا امکان نہیں ہے

بلوچستان میں کاروبار کے مواقع کم ہونے اور ایسی صورتحال میں جب کوئی کام کررہاہے حکومت کو چاہیے کہ اسے سہولت فراہم کرے ناکہ اس کا راستہ روکا جائے جو کسی بھی طرح ملکی معیشت کیلئے سود مند نہیں ہے

نوٹ:مضمون کے خیالات رائٹر اپنے ہیں ان سے ادارے کا متفق ہونا ضرور ی نہیں ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں