?کولپور کے تاریخی بازار کی رونقیں ماند کیوں پڑگئیں

عبدالکریم

کوئٹہ سے جنوب کی سمت تیس کلومیٹر کے دوری پر واقع کولپور جہاں سے بولان کے تاریخی درے کا آغاز ہوتا ہے، یہ تاریخی درے کئی عظیم فاتح گروں کی گزرگاہ رہی

جن میں احمدشاہ ابدالی اور سکندرعظیم جیسے عظیم فاتح شامل ہےں یاد رہے انگریز دور حکومت اٹھارویں صدی میں متحدہ ہندوستان کو مشرقی وسطیٰ سے منسلک کرنے کیلئے بولان کے سنگلاخ اونچے پہاڑوں کو چھیر کر ریل گاڑی کی پٹڑی بچھائی گئی تھی

جس پر اسی طرح گاڑیوں کی گزرگاہ کیلئے ایک پکی سڑک بعد میں تعمیر ہوئی جس سے گزر کر مسافر ایک وقت میں کولپور کے تاریخی بازار سے ہوکر مستونگ کے نواحی علاقے سے ہوکر کوئٹہ تک پہنچتے تھے .

کولپور کا یہ تاریخی بازار کئی دہائیوں تک مسافروں کی گزرگاہ رہی جس کی وجہ سے اس تاریخی بازار میں ہر وقت گہماگہمی رہتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے

اب اس تاریخی بازار میں مقامی لوگوں کے سواءکوئی نظر نہیں آتا جس کی وجہ “سے بازار میں موجود دکانداروں کے کاروبار پر منفی اثر پڑا ہے کولپور کے تاریخی مندر “گوبند دام “کے ساتھ مقامی دکاندار جو دکان کے سامنے بیٹھا گاہکوں کا منتظر تھا

کہنے لگا ” جب سے کولپور بائی پاس بنا ہے تب سے کولپور بازار میں مسافروں کا آنا بند ہوگیا ہے پہلے ہم دن میں چوبیس کاٹن منرل واٹر کا پانی فروخت کرتے تھے اب سال میں بھی اتنا پانی فروخت نہیں ہوتا

“دکاندار نے پکوڑے تلنے والے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس پکوڑے والے کو پہلے سرکجھانے کا موقع نہیں ملتا تھا لیکن اب صورتحال ویسی نہیں ہے کیونکہ کاروبار نہ ہونے کی برابر ہے ۔

دکاندار کچھ توقف کے بعد پھر سے کہنے لگا گرمیوں میں سندھ اور ملک کے دیگر علاقوں سے زائرین گوبند دام مندر کی زیارت کیلئے آتے ہیں پھر اس وقت کچھ دنوں کیلئے بازار کی رونق تو بحال ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی ماضی کے دن کہاں جب بازار میں ہرطرف گہماگہمی ہوتی تھی، بازار کا ہر شخص گاہکوں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں مصروف نظر آتا تھا.

قارئین کو بتاتا چلوں کہ جب سے کولپور بائی پاس بنا ہے تب سے گاڑیوں اور مسافروں کا کولپور بازار سے گزرنا بند ہوگیا ہے .

اپنا تبصرہ بھیجیں