مرکزاور بلوچستان میں اپوزیشن متحرک ،حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی

نیوز ڈیسک

موجودہ حکومت کے پالیسیوں اور اقدامات سے نالاں اپوزیشن نے احتجاج کا اعلان پہلے ہی کردیا تھا جس کا عملی مظاہرہ بس ہوا چاہتا ہے

مرکزی اور بلوچستان حکومت بھی دعویٰ کررہی ہے کہ اس کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں لیکن شاید اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہر کمزور حکومت نے یہی دعویٰ کیا اس کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں لیکن وہ سلامت نہ رہ سکی

مرکزی سطح پر پی ٹی آئی حکومت کیخلاف اپوزیشن جماعتوں نے عید سے قبل احتجاج کا اعلان کردیا تھا جبکہ دوسری جانب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس پر وکلاءبھی سراپااحتجاج ہیں اور انہوںنے کل اجلاس طلب کررکھا ہے

کوئٹہ میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے پریس کانفر نس میں کہا کہ چودہ جون کو ریفرنس کی سماعت کے موقع پر ہم دھرنا دینگے

امان اللہ کنرانی نے مزید کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بدیانتی پر مبنی ہے ہم تمام وکلاء اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں

14 جون تمام وکلاء سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائیگادھرنا اس وقت تک جاری رہیگا جب تک حکومت کی جانب سے ریفرنس واپس نہیں لیا جاتا

14 جون کو بلوچستان بھر کے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائیگا جسٹس قاضی فائز عیسی کو سانحہ آٹھ اگست فیصلے کی سزا دی جارہی ہیں

دوسری جانب بلوچستان میںاپوزیشن نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرائی ہے جس میں امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی جاسکتی ہے

جس کا اظہار گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ عید کے بعد جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائینگے

گوکہ یہ سب کچھ ہونے جارہا ہے اس کے باوجو د بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال پرعزم ہیں کہ ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے

وندر و اوتھل میں اپنے حلقہ کے عوام سے عید ملن کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہاکہ
ہماری حکومت کو کوئی خطرہ نہیں صوبائی اسمبلی کا اجلاس پہلے سے طے شدہ ہے اسمبلی اجلاس اپوزیشن کے تحفظات پر طلب کیا گیا ہے

ایوزیشن سے اچھے تعلقات ہیں تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے سرداراختر مینگل کچھ ناراض دکھائی دیتے ہیں وفاقی حکومت راضی کرلے گی

حب کی صنعتوں کے ریونیو کا بلوچستان کے حصے کا ماملا ایف بی آر کے پاس ہے ماھی گیروں کے لیے کو آپریٹیو سوسائٹیاں بنا رہے ہیں مزدوروں کے مسائل حل کئیے جائینگے اور قانون سازی کررہے ہیں ونڈسر ڈیم اور کراچی ٹو کوئیٹہ دو رویہ سڑک وفاق سے منظور کرالی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں