پاکستان کا قرضہ چھ ارب سے 30ارب تک پہنچ گیا

بلوچستان24رپورٹ

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ دنیا میں سب سے کم پاکستانی ٹیکس دیتے ہیں، 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم میں سب شرکت کریں، ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک اْوپر نہیں اٹھے گا۔

وزیراعظم نے قوم کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق ہمارے پاس بہت سی معلومات ہیں، پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات آرہی ہیں جو پہلے کبھی کسی حکومت کے پاس نہیں تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام سے کہتا ہوں کہ جن کا پیسہ باہر پڑا ہوا ہے وہ 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم میں شریک ہوں اور اس سے فائدہ اٹھائیں اس کے بعد انہیں موقع نہیں ملے گا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پچھلے دس سال میں پاکستان کا قرضہ 6 سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، سالانہ ہم 4 ہزار ارب ٹیکس اکھٹا کرتے ہیں جس میں سے آدھی رقم پچھلی حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے اور بچ جانے والے پیسے سے ملک کے خرچے پورے نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ عظیم قوم بننا ہے تو ہمیں خود کو تبدیل کرنا پڑے گا، قوم میں جذبہ آگیا تو ہم ہر سال 10 ہزار ارب روپے اکھٹا کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑے گا، عوام آگے بڑھیں اور موقع دیں کہ ہم اس ملک کو پیروں پر کھڑا کریں اور لوگوں کو غربت سے نکالیں۔

پچھلے 10 سال میں پاکستان کا قرضہ 6 سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا۔ پاکستان ان چند ملکوں میں سے ہے جو سب سے زیادہ خیرات دیتا ہے۔

انہوں نے اسی حوالے سے مزید کہا کہ پاکستانی قوم دنیا میں سب سے کم ٹیکس اور سب سے زیادہ خیرات دیتی ہے، قوم سے اپیل ہے کہ اثاثے ڈکلیئر کرنے کی اسکیم میں سب شرکت کریں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 30 جون تک اپنے اثاثے اور بے نامی بینک اکاؤنٹس ڈکلیئر کریں، اسکیم کا فائدہ اٹھائیں، اپنے بچوں کا مستقبل ٹھیک کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سالانہ 4 ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں، ان 4 ہزار میں سے 2 ہزار ارب روپے لیے گئے قرضوں کی ادائیگیوں میں چلے جاتے ہیں۔ بچ جانے والے پیسے سے ملک کے خرچے پورے نہیں ہو سکتے، اگر ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو پاکستانی کبھی عظیم قوم نہیں بن سکتے۔

انہوں نے کہا کہ 30 جون کے بعد آپ کو اثاثے ظاہر کرنے کا پھر موقع نہیں ملے گا، قوم میں جذبہ آ گیا تو ہم ہر سال 10 ہزار ارب روپے اکٹھے کر سکتے ہیں۔ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو اپنے ملک کو اوپر نہیں لے جا سکیں گے، عظیم قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ا?پ کو تبدیل کرنا پڑے گا۔

ہماری ایجنسیز کے پاس معلومات ہیں کہ کس کے پاس بے نامی اکاؤنٹ ہے یا بے نامی پراپرٹیز ہیں، ہماری حکومت کے پاس وہ انفارمیشن ہے جو پہلے کسی حکومت کے پاس نہیں تھی۔ہمارے معاہدے ہوئے ہیں، باہر ملکوں میں پاکستانیوں کی پراپرٹیز کی معلومات آ رہی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں