سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری،موجودہ حکومت کی عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش یا کچھ اور

خصوصی رپورٹ۔۔۔۔۔۔بلوچستان 24

موجودہ حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج کے اعلان جس میں عید کے بعد مظاہرے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا اس سے قبل بڑے رہنماؤں کی نیب کے ذریعے گرفتار کرنا شروع کردیا

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آٓصف زرداری کو عدالت سے ضمانت میں توسیع نہ ہونے پر گرفتار کیا گیا اور آج بروز منگل کے روز حمزہ شہباز کو بھی عدالت سے ضمانت میں توسیع نہ ہونے پر نیب حکام نے گرفتار کرلیا

دونوں گرفتاریوں میں مماثلت بھی نظر آتی ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے بجٹ پیش کرنے کے دوران بھی احتجاج کا اعلان کیا تھا جو آج پیش کیاجارہاہے

دوسری جانب آج ایک دوسری بڑی خبر سامنے آئی ہے کہ لندن میں اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو بھی میڈیا رپورٹس کے مطابق حراست میں لے لیا ہے

تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ حکومت نے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے یہ سب کچھ کیا کیونکہ موجودہ حکومت معاشی حوالے سے ناکامی اور ملکی مسائل حل نہ کرسکی جس پر اسے ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہاتھا

دوسری جانب ڈالر میں اضافے نے بھبی موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کو سامنے لایا

ملکی میڈیا کو بھی ایشو مل گئے ہیں انہوں نے تجزیوں کو رخ موجودہ گرفتاریوں کی طرف کرلیا ہے جس کے باعث عوام کی دلچسپی بھی اس پر ہوگئی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا میں بھی ٹرینڈ چلنے شروع ہوگئے ہیں

جبکہ موجودہ حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کردیا جس میں دلچسپ امر یہ ہے کہ اسے وزیر خزانہ کے بجائے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے پیش کیا

بجٹ کے دوران اعلان کیاگیا کہ کوئٹہ کے ترقی کیلئے 4ارب کا فنڈ رکھا گیا ہے

وزیر مملکت حماد اظہر وفاقی بجٹ پیش کر تے ہوئے کہا کہ دو سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر دس ارب سے بھی کم رہ گئے

پچھلے پانچ سال میں ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہواآئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیاہے

تجارتی خسارے میں 4ارب ڈالر کی کمی لائیہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپیسے کم کرکے26ارب روپیتک لے آئے تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے

صرف بیس لاکھ لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جن میں 6 لاکھ ملازمین ہیں 80ہزار مستحق لوگوں کوہرمہینے بلاسود قرضے دیے جائیں گے

ٹیکس وصولیوں کا کل حجم 5822 ارب20 کروڑ روپے رکھا گیا،ایف بی آر کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف5555ارب روپے رکھا گیا ہے،بجٹ دستاویز

متفرق ٹیکسز کا ہدف 267ارب 20 کروڑ روپے رکھا گیا ہے،بجٹ دستاویز

حکومت نیغربت میں کمی کے لیے ایک نئی وزارت قائم کی ہے نجکاری پروگرام سے 150ارب روپے حاصل ہونے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلیے اسٹیٹ بینک سے قرض لیاجاتاتھا جو اب نہیں لیاجائیگا،قومی ترقیاتی پروگرام کیلیے1800 ارب روپے رکھے گئے ہیں

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے موجودہ گرفتاریوں پر کہاکہ بڑی گرفتاریاں ہوگئیں اللہ کو پاکستان پر رحم آگیا

اپنا تبصرہ بھیجیں