اپوزیشن کی اے پی سی،یوم سیاہ،چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کا فیصلہ

رپورٹ۔۔۔بلوچستان24

مولانا فضل الرحمان کی کال پر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد تو ہوگیا تاہم اپوزیشن جماعتیں کسی ایک بڑے فیصلے پر متحدہ نہ ہوسکیں تاہم مولانا فضل الرحمان حکومت کیخلاف محاذ کھولنے کیلئے پرعزم ہیں

اسلام آباد میں پاکستان کی حزب اختلاف سے وابسطہ پارلیمانی سیاسی جماعتوں کا ایک کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت جمعیت علماء اسلام کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کی، اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سینئر رہنماؤں نے شرکت کی

اجلاس نے بجٹ 2019 کو عوام دشمن، تاجر دشمن اورصنعت دشمن، صحت و تعلیم دشمن قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا، اور اعلان کیا کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھے گی۔

عوام کو جعلی مینڈیٹ، دھاندلی زدہ اور نااہل حکومت کی پیدا کردہ اذیت ناک مہنگائی اور معاشی مشکلات کے کرب سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتیں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی، تاکہ رائے عامہ کو عوام دشمن ایجنڈے کے خلاف منظم کیا جا سکے۔

اجلاس نے دھاندلی زدہ حکومت کا دھاندلی سے پاس کرنے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو ممبران قومی اسمبلی کے پروڈیکشن آرڈرز بھی جاری کئے جائیں تاکہ وہ اپنے عوام کی نمائندگی کر سکیں۔

اجلاس نے پارلیمان آئین اور سول حکمرانی کی بالادستی پر زور دیا۔ ججوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ریفرنس کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیا ان ریفرینسز کو فورا واپس لیا جائے۔ اجلاس نے عدلیہ میں اصلاحات، ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر نظر ثانی اور سوموٹو اختیارات کے استعمال کے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس نے عوام کے جمہوری حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اجلاس نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے قانون سازی کی جائے، وہ لوگ جو سیکورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں کئے گئے ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، تشدد (ٹارچر) کے استعمال کے خلاف قانون سازی کی جائے۔

سابقہ قبائلی علاقہ جات میں صوبائی اسمبلی کے 20 جولائی 2019 کو صوبائی اسمبلی کے ہونے والے انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن کے حالیہ نوٹیفیکیشن جس کے تحت فوج کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر تعیات کرنے اور سمری ٹرائل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ یہ نوٹیفکیشن فی الفور واپس لیا جائے۔

اجلاس نے مطالبہ کیا کہ سابقہ قبائلی علاقہ جات اور خیبر پختونخواہ میں گذشتہ کئی سالوں سے قائم حراستی مراکز کو عام جیلوں میں تبدیل کر کے ان میں قید لوگوں کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

اجلاس نے میڈیا پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیوں اور سنسر شپ کی مذمت کی اور ان پابندیوں کو فورا ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس نے صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور اس کے لئے فوری قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس نے پارلیمانی نظام حکومت اور اٹھاروی ترمیم کے خلاف اعلانیہ اور پس پردہ کوششوں کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ ہر ایسے اقدام کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی جس کا مقصد پارلیمانی نظام حکومت کو کمزور کرنا ہو۔

اجلاس نے منصفانہ اور غیر جانبدار احتساب پر زور دیا اور جاری یکطرفہ اور انتقامی احتساب کو مسترد کیا۔ مطالبہ کیا کہ احتساب کا ایک نیا مؤثر قانون بنایا جائے جس کے تحت محض چند مخصوص طبقوں کا نہیں بلکہ تمام افراد کا ایک ہی قانون اور ایک ہی ادارے کے تحت احتساب کیا جا سکے جو قومی خزانے سے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔

اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اداروں کو ملکی سیاست میں ہر گز مداخلت نہیں کرنی چاہئے، اجلاس نے مجوزہ ڈیبٹ انکوائری کمیشن کو مسترد کیا، اسے پارلیمان پر حملہ قرار دیا غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔

اجلاس نے مطالبہ کیا کہ تمام حقائق کو عوام کے سامنے لانے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کی تعداد برابر ہو اور سنہ 2000 سے لے کر اب تک تمام گرانٹس اور قرضہ جات کے حصول اور اس کے استعمال کی تحقیقات کریں۔

اجلاس نے قرار دیا کہ مجوزہ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل اایک غیر ضروری ادارہ ہے جس کی آئینی ادارہ نیشنل اکنامک کونسل کی موجودگی میں کوئی ضرورت نہیں یہ اقدام اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے اجلاس نے اسے مسترد کیا۔

اجلاس نے قرار دیا کہ مجوزہ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل ایک غیر ضروری ادارہ ہے جس کی آئینی ادارہ نیشنل اکنامک کونسل کی موجودگی میں کوئی ضرورت نہیں یہ اقدام اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے اجلاس نے اسے مسترد کیا۔

اجلاس نے فیصلہ کیا کہ ایک کل جماعتی رہبر کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی اور اس اعلامیہ کے نکات پر عمل در آمد کو یقینی بنائے گی۔

اجلاس نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے نیا چیئرمین سینیٹ لانے کا فیصلہ کیا اوررہبر کمیٹی سینیٹ کے نئے چیئرمین کے لئے متفقہ امیدوار کا نام بھی تجویز کرے گی۔

مطالبہ کیا کہ وزیرستان میں حالیہ واقعات کے بارے میں ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔

اجلاس نے سابق وزیر اعظم میان محمد نواز شریف سے ملاقات پر پابندی اور ان کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی نہ دینے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق میان محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقات اور ان کے ذاتی معالج کو فی الفور رسائی دی جائے اور مطالبہ کیا کہ محمد نواز شریف آصف علی زرداری اور دیگر اسیران کی زندگی کے بنیادی دستوری اور قانونی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس نے موجودہ حکومت کے آئین پاکستان کے اسلامی دفعات کے خلاف اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں