پر فضا مقام ولی تنگی،سیاحوں کی رسائی مشکل

تحریر۔۔۔۔۔۔ عبدالکریم

نیلگوں پانی کی روانی سے پیدا ہونی والی جلترنگ سماعتوں میں رس گھل رہی ہے پانی کنارے ایستادہ پیڑ کے سائے کی نیچے بیٹھ کر یہ تحریر لکھ رہا ہوں کوشش کرونگا کہ میری نظروں کے سامنے جو خوبصورت مناظر متحرک تصویروں کی صورت میں گھوم رہی ہے میں ان خوبصورت مناظر کو لفظوں کی صورت میں قارئین کی ذہنوں میں منقش کردوں، اور ساتھ میں یہاں آنے والے سیاحوں کو درپیش مشکلات سے قارئین کو آگاہ کروں

میں اس وقت کوئٹہ کے سیاحتی مقام ہنہ اوڑک کے بلند اوبالا پہاڑوں کے درمیان واقع ولی تنگی میں موجود ہوں ولی تنگی کوئٹہ شہر سے تقریباً پینتس منٹ کے مسافت پر واقع ہے۔

ولی تنگی میں ایک ڈیم بھی ہے جو ولی تنگی کے ہی نام سے جانا جاتا ہے یہ ڈیم کئی سال تک بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک رہا، لیکن امسال بارشیں زیادہ ہوئیں تو ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا، یاد رہے ہنہ اوڑک کی زیادہ تر زمینیں اس ڈیم کی پانی سے سیراب ہوتی ہیں

ولی تنگی میں میری ملاقات غلام یاسین سے ہوئی وہ اپنے خاندان کے ساتھ ولی تنگی سیر کیلئے آئے تھے ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں پکنک کیلئے ایک ہی پر فضا مقام ہے جو ولی تنگی ہے لیکن یہاں پر اکثر ہمیں نہیں چھوڑا جاتا ہے اس لیے سیاحوں کو یہاں تک آنے میں مشکل پیش درپیش ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے احکام اعلیٰ نے خود اس بات سے غافل رکھا اور سیاحوں کو جان بوجھ کر اس خوبصورت علاقے کو دیکھنے سے محروم رکھا گیا ہے

، حکومت سیاحت کی فروغ کیلئے ولی تنگی تک سیاحوں کی رسائی ممکن بنائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں آئیں جس سے علاقہ مکینوں کیلئے روزگار کے مواقعے بھی پیدا ہوں گئیں.

ہم بات کررہے ہیں تھے ولی تنگی کی خوبصورتی کی اس حوالے سے ایک اہم بات بتاتا چلوں کہ صنوبر کے درخت ولی تنگی کے پہاڑوں میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں جو اس خوبصورت وادی کی خوبصورتی میں اضافہ کردیتے ہیں اسی طرح دیگر درخت بھی یہاں ایستادہ ہیں جن کے چھاؤں میں بیٹھ کر سیاح شہر کے شوروغل سے نکل کر چند لمحے سکون حاصل کرتے ہیں.

لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ولی تنگی کی سڑک کو بہت نقصان پہنچا ہے جگہ جگہ سڑک ٹوٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے سیاحوں کو چلنے میں مشکل درپیش آتی ہے، ہم نے یہاں بہت سے سیاحوں کو گاڑیوں کو دکا لگاتے ہوئے دیکھا حکومت کو اس سڑک پر خصوصی توجہ دینی چاہیے اور اسی طرح سیاحوں کو ولی تنگی تک رسائی کو آسان بنائیں اور اس کیلئے طریقہ کار وضع کریں تاکہ سیاحوں کو پاس مافیا سے نجات مل سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں