چیئرمین سینٹ کو ہٹانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاغی کی محرومی

رپورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔ فاروق بلوچ

سینٹ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپوزیشن جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے ملکر پی ایم ایل این کو سینٹ چیئر مین اور ڈپٹی چیئرمین دونوں میں کامیاب ہونے نہیں دیا۔ آصف علی زرداری نے ایک دفعہ پھر بلوچستان کے لوگوں پر مہربان ہوکر اس سرزمین کے فرزند کو اس نشست پر بھٹایا جہاں نا صرف چاغی بلکہ بلوچستان بھر کے ہر باشعور شہری نے زرداری کی پالیسی کو خوب داد دی اور اسے ایک دوراندیش سیاستدان قرار دیا۔

چند سیاسی جماعتیں اس چیئرمین شپ سے ناخوش بھی نظر آئے کیونکہ ان سیاسی ناقدین نے اپنی پوری زندگی سیاست میں گزاری انھیں یہ عہدہ نصیب نہیں ہوا۔

بحر حال وہ فرزند چاغی محمد صادق سنجرانی کا نصیب تھا اسے اس اسٹیج پر پہنچا دیا صادق سنجرانی چاغی کے اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اپنی تاریخ ہے اور صادق سنجرانی خود بھی ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں

لوگوں نے اک ایسی غیر جانبدار اور تعلیم یافتہ شخص کو اتنی بڑی نشست پر دیکھ کر نا صرف ترقی کے خواب دیکھنے لگے بلکہ یہ بھی یقین کرنے لگے کہ پاکستان کے اعلی عہدوں پر بلوچستان کے لوگوں کو آگے لانے اور بلوچستان کی پسماندگی کو ختم کرنے کا ایک واضح پیغام ہے آصف علی زرداری کا یہ فیصلہ بلوچ عوام کے دلوں میں براراست اثر انداز ہوگیا۔
مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے گزشتہ روز اے پی سی اجلاس میں ان لوگوں نے سینٹ چیئرمین کو ہٹانا کی باتیں کیں بلکہ فیصلہ تک کر لیا جو کہتے تھے سنجرانی کون ہے؟

یہ وہی سیاسی لوگ ہے جنہوں نے ہمیشہ بلوچستان کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی اور چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے شروع دن سے مخالف ریے ہیں انکی مخالفت صادق سنجرانی سے کوئی ذاتی نہیں ہے انکو اس بات کی پریشانی ہے ایک پسماندہ ضلع کا شخص اتنے بڑی عہدے پر کیسے فائز ہوگیا۔

میڈیا کے ذریعے اے پی سی اجلاس کا اصل آئینہ عوام کے سامنے آیا کہ اے پی سی میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ صادق سنجرانی کو ہٹانا چایئے اس پر ضلع چاغی سمیت بلوچستان کے لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے

ضلع چاغی کے مختلف قبائلی عمائدین نے میڈیا کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بتایا صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد لانے کی شدید مخالفت کرینگے صادق سنجرانی کو ہٹانے کا مقصد صرف یہی ہوگا کہ بلوچستان کے لوگوں کو اعلی عہدوں پر برداشت نہیں کیا جائے گا

پہلی بار وفاقی سطح پر سینٹ میں بلوچستان کو نمائندگی ملی ہے اب اسے بھی ہٹا رہے ہیں چاغی ضلع نے اس ملک کے لیئے بے شمار قربانیاں دی ہیں 28 مئی 1998 کو ایٹم بم کو اپنی سینے میں دفن کردیا آج بھی دفاعی حوالے سے چاغی عوام ہمیشہ اپنے پاک فوج اور ملک کے ساتھ کھڑا ہے

چاغی کے قبائلی عمائدین اور عوامی حلقوں نے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، اور دیگر سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے صادق سنجرانی کو مکمل موقع دیا جائے صادق سنجرانی کو ہٹانے سے بلوچستان کے لوگوں میں شدید مایوسی پیدا ہوگی صادق سنجرانی ایک غیر جانبدار شخص ہے جو ایوان کو بھی بہتر انداز میں چلا رہے ہیں۔بلوچستان اور چاغی کی تعمیر وترقی کے لیے اسے اپنی مدت پوری کرنے دی جا ئے

ادھر وزیر اعلی بلوچستان اوراسپیکر بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو ودیگر چیئرمین سینٹ کو بچانے کے لیے اسلام آباد میں ڈھیرے ڈال دیئے ہیں آج مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقات بھی کرینگے۔

ادارے کا مضمون نگار کے رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں