پشتو ادب کا پچاس سالہ سفر

رپورٹ۔۔۔۔عبدالکریم

پشتو اکیڈیمی کے زیر اہتمام تین روزہ عالمی پشتو سمینار بعنوان” پشتو ادب کا پچاس سالہ سفر، فکری اور نظریاتی رحجانات ” کے تحت منعقد ہوا اس سمینار میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں سے خاص کر افغانستان سے پشتون ادیبوں، شاعروں اور مصنفوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور پشتو ادب کے مختلف پہلو اور موضوعات پر مقالے پیش کئے

یاد رہے سمینار میں بڑی تعداد میں خواتین ادیبوں نے بھی شرکت جہنوں نے خواتین کی پشتو ادب میں کردار کے مختلف موضوعات پر اپنے علمی مقالے پیش کئے اور شرکاء سے خواب داد وصول کی.

سمینار کے حوالے سے پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صدر سنیٹر عثمان کاکڑ نے بلوچستان24ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ” سمینار جس بھی زبان کا ہووہ زبان کی ترقی اور فروغ میں کردار ادا کرتا ہے، پشتو عالمی سمینار بھی پشتو زبان، تاریخ ادب، علم اور تہذب و تمدن کے فروغ میں اہم کلیدی کردار ادا کریگا

اس سمینار میں علمی مقالے پیش ہوئے جو مختلف مکتبہ فکر خاص کر نئی نسل نے سنے جو خوش آئند ہے اور مقالوں کو ایک کتابی شکل بھی دیا جائیگا جو کہ انتہائی اہم ہے”

ممبر صوبائی اسمبلی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور پارلیمانی لیڈر اصغرخان اچکزئی نے سیمینار کی افادیت پر بلوچستان24ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشتو عالمی سمینار موجودہ حالات میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے،

ایسے حالات میں خاص کر افغانستان میں امن کی دگرگوں صورتحال میں پشتونوں کے ہر علاقے کو نمائندگی دے کر ادیبوں اور لکھاریوں کو اکٹھا کرنا یکجہتی کا اظہار ہے اور یہ ہماری مستقبل کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے

جن حالات سے ہم دوچار ہے خصوصاً بدامنی، بدحالی اور بے علمی کا ایسے حالات میں اس سمینار کا مثبت نتیجہ آئیں گا

اصغرخان اچکزئی نے اس موقع پر حکومت وقت سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے پروگرامز اور اکیڈیموں کو فروغ دیں اور ان کی ترقی کیلئے کام کریں اور انہوں ہر ماہ جب تک وہ ممبر صوبائی اسمبلی رہیں گے پشتو اکیڈیمی کو پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان بھی کیا یاد رہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی سمینار کے افتتاح کے موقع پر پشتو اکیڈیمی کے ترقی کیلئے تیس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں